کیوں زندگی ہے خطرے میں ۔۔۔؟تحریر : طیبہ بخاری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,466
1,313
Lahore,Pakistan
کیوں زندگی ہے خطرے میں ۔۔۔؟تحریر : طیبہ بخاری

اپنی بستی میں جہاں جائوں وہاں بولتا ہے لوگ کہتے ہیں سناٹا کہاں بولتا ہے ٭:کیوں بڑے ملکوں کے بڑے حکمرانوں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ان کی وجہ سے لاکھوں ، کروڑوں زندگیاں کیوں ہیں خطرے میں ۔۔۔۔؟ کیوں انسانی جانیں محفوظ نہیں ۔۔۔؟
114496


٭:کیوںشخصی نظریہ ، شخصی آزادی ، مذہبی آزادی حاصل نہیں ؟
٭:اپنے خطے میں جھانکیں تو ۔۔۔جنوبی ایشیاء کا مستقبل ہمیشہ خطرات سے دوچار کیوں رہتا ہے ۔۔۔؟


٭:ترقی کی دوڑ میں سارک ممالک آگے کی بجائے پیچھے کا سفر کیوںکرتے ہیں ۔۔۔؟


٭:حکومتیں مقبولیت کی بجائے عوام میں اپنا اعتماد کیوں کھو رہی ہیں ۔۔۔؟کیوں انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔؟


٭:بد امنی ، بے روزگاری، جہالت اور صحت کے مسائل کیوں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔۔۔؟


٭:جنوبی ایشیاء میں بسنے والے کروڑوں انسان اپنے ہی خطے میں بسنے کو ترجیح کیوں نہیں دیتے ۔۔۔؟کیوں پردیس جاتے ہیں۔۔۔در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ۔۔۔؟


٭:کیوں سارک ممالک کا مستقبل محفوظ دائرے میں شمار نہیں کیا جاتا۔۔۔؟کیوں شدت پسندی نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔۔؟ کیوں یہاں خودکشیاں اور خود کش حملے بڑھ رہے ہیں ۔۔۔؟کیوں عبادتگاہوں پر حملے ہوتے ہیں ۔۔۔؟


٭:کیوں خطے پر ہر وقت جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں ۔۔۔؟کیوں دھمکیوں اور بالادستیوں کا سلسلہ نہیں رُکتا ؟


ان تمام سوالوں اور خدشات کے جواب میں عالمی اداروں کے چند چشم کشا انکشافات کافی ہیں


مختصراًجائزہ لیں کہ دنیا کو اب تک جنگوں اور نفرتوں سے کیا ملا ۔۔۔؟کس کا بھلا ہوا ۔۔۔؟ کس ملک نے ترقی کی ۔۔؟ توایک سطر میں جواب اتنا سا ہے کہ کسی کو کچھ نہیں ملا بلکہ انسانوں نے کھویا ہی کھویا ، ملک برباد ہی ہوئے ، کوئی بسا نہیں بس تباہی ملی ۔۔۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ سے زائد انسان جنگوں اور دیگر تنازعات کے باعث بے گھر ہیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ایسے انسانوں کی مجموعی تعداد دنیا کے 20ویں بڑے ملک کی آبادی کے برابر ہے۔ ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق گذشتہ برس کے اختتام پر دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں جنگوں، مسلح تنازعات اور خونریز بحرانوں کے باعث اندرونی یا بیرونی نقل مکانی پر مجبور ہو چکے انسانوں کی تعداد تقریباً 71 ملین بنتی تھی۔اس ادارے کے مطابق یہ 70.8 ملین انسان ایسے لوگ ہیں، جو محض اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنا گھر بار ترک کرنے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں 2 ملین زیادہ ہے۔یوں عالمی سطح پر نقل مکانی پر مجبور ان بے گھر انسانوں کی تعداد کا یہ ایک نیا لیکن برا عالمی ریکارڈ ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانوں کو انسانوں ہی کے پیدا کردہ بحرانوں کے باعث کس کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے ’’گلوبل ٹرینڈز‘‘ یا ’’عالمی رجحانات‘‘ کے عنوان سے جاری کی جانے والی اس تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق آج دنیا میں اتنے زیادہ انسان جنگوں اور بحرانوں کی وجہ سے بے گھر ہیں کہ اگر وہ سب کسی ایک ملک میں رہ رہے ہوتے، تو وہ اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 20 واں سب سے بڑا ملک ہوتا۔یو این ایچ سی آر کے مطابق ان تقریباً 71 ملین انسانوں میں ایسے مہاجرین، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں، جو عشروں سے اپنے آبائی ممالک اور خطوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں، صرف اس لیے کہ ان کی آبائی علاقوں میں زندگیاں ابھی تک خطرے میں ہیں۔یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے جنیوا میں رپورٹ کے اجراء پر صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ادارہ اس رپورٹ کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ مہاجرین اور تارکین وطن کو اپنے اپنے ممالک میں سلامتی اور روزگار کے مواقع کیلئے خطرات کے طور پر پیش کرنے سے احتراز کریں۔ یہ بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور انسان تو خود اپنی زندگیوں کو درپیش خطرات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ 2018ء کے اختتام پر 70.8 ملین انسان بے گھر تھے، 2017 ء کے اختتام پر ان کی تعداد 68.5 ملین بنتی تھی اور اگر 2008ء اور 2018ء کے درمیانی عشرے کو دیکھا جائے تو اس دوران ایسے انسانوں کی تعداد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ۔ ایک اور تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ ان تقریباً 71 ملین انسانوں میں سے 41 ملین، یا ہر 5میں سے 3 انسان ایسے ہیں جو جنگوں، بحرانوں اور تنازعات کے باعث اپنے آبائی ممالک میں ہی داخلی طور پر ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ ایسے مہاجرین میں بڑی تعداد خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کی ہے جو 13 ملین بنتی ہے۔


گذشتہ برس 23 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے یہ تعداد 20 برس پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ 37 ہزار افراد روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ایسے افراد کو پناہ دینے والے ممالک میں ترکی سرِفہرست ہے جہاں پناہ گزینوں کی تعداد 37 لاکھ ہے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر ہے جہاں اس وقت پناہ گزینوں کی تعداد14 لاکھ ہے۔ یوگینڈا میں 12 لاکھ، سوڈان میں 11 لاکھ جبکہ جرمنی میں بھی 11 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ’’ ان اعداد و شمار میں جو چیز ہمیں نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ طویل مدت میں جنگوں، تنازعات اور جبر سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگرچہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تلخی کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی ہم دوسرے لوگوں کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور سے جو ان افراد کو پناہ دیتے ہیں۔‘‘


اب ذرا دنیا کے بڑے اور اہم خطے جنوبی ایشیاء پر نظر دوڑائیں تو امریکہ کہہ رہا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مذہبی آزادی پر جاری رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سال 2018 ء میں انتہاپسند ہندوئوں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملے جاری ہیں۔اقلیتوں کو گائے ذبح کرنے یا گائے کی خریدوفروخت کرنے کے الزام کی آڑ میں نشانہ بنایاگیا۔ ایک تہائی ریاستوں نے گائے ذبح کرنے کے خلاف قانون سازی کی جو غیرہندوئوں اور دلتوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ گائے کی حفاظت کرنے والے ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں میں اضافہ ہورہاہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیاگیاکہ امریکی حکومت کو بھارت پر دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ مذہبی آزادی کی صورتحال جاننے کیلئے امریکی وفد کو بھارت کادورہ کرنے کی اجازت دے۔


دوسری جانب برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن لندن کے سامنے سائوتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ کی جانب سے وجل کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے بھارت کیخلاف نعرے لگائے اور کہا کہ بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں نے مذہبی اقلیتوں پر زمین تنگ کردی ہے وہاں روزانہ کسی بھی بہانے سے مسلم اور دلت کمیونٹی کے افراد کو قتل کردیا جاتا ہے۔ چند شرکاء نے وزیراعظم نریندر مودی کی تصویراپنے چہرے پر لگا رکھی تھی اور سرخ رنگ سے رنگے ہاتھ خون کی عکاسی کررہے تھے، اس موقع پر امرت ولسن نے کہا ’’ بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے سائوتھ ایشیاء سالیڈیرٹی گروپ نے گلوبل کمپین چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ وجل اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔ بھارت کے الیکشن میں بی جے پی کو واضح کامیابی ملی لیکن جس طریقے سے یہ جماعت اقتدار میں آئی ہے اس سے خود بھارت میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔لوک سبھا الیکشن کو تقریباً ایک ماہ گزر چکا لیکن اب بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن کسی مسلمان یا دلت کو بھارت میں قتل نہ کیا جائے۔ لوک سبھا الیکشن میں جس طرح سے بی جے پی کو کامیابی ملی اس پر عوام کو الیکٹرونک ووٹنگ مشینوںکے حوالے سے بھی تحفظات ہیں ، عوام کی بڑی تعداد کہتی ہے کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر فراڈ ہوا ہے۔ اور اگر فراڈ نہیں بھی ہوا تو بھارت میں پاکستان سے جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا۔ پاکستان پر حملے کی تیار کی گئی جس سے بھارت میں بسنے والے خوفزدہ ہوگئے اور ان کا خیال تھا کہ مودی ہی انہیں اقتدار میں آکر بچالیں گے۔‘‘ محترمہ کلپنا نے کہا’’ بھارت میں کبھی گائے کی حفاظت اور اس کا گوشت کھانے والوں کیخلاف باتیں شروع کردی جاتی ہیں جوکہ دراصل اقلیتوں کیخلاف ظلم کرنے کے بیان ہوتے ہیں بھارت میں ایک فاشٹ حکومت ہے حالیہ الیکشن میں امن اور ترقی کی بات نہیں کی گئی بلکہ جنگ اور نفرت کی باتیں کرکے قوم پرستی کی بنیاد پر الیکشن جیتا گیا۔ بی جے پی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا اور الیکشن کمیشن کے علاوہ عدلیہ کے ایک حصے کو بھی اپنے زیراثر کرلیا ہے اور کسی کو بھی اس کیخلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ برطانیہ میں آباد بھارتی کمیونٹی کو ان ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔ ‘‘صاحب جویل نے کہا ’’بھارت میں انتہا پسندوں نے اقلیتوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ دلت اور مسلمانوں کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ ان مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور تمام اقلیتوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ بھارت دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن وہاں جو حالات ہیں وہ شرمناک ہیں۔ ‘‘ڈوٹی فرینڈس کے مطابق وہ مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے مظاہرے میں شریک ہوئیں، بھارت میں عوام نے نریندر مودی کو اس لئے ووٹ نہیں دیئے تھے کہ کمزور اقلیتیں مزید غیر محفوظ ہوجائیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے علاوہ خواتین کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ ریپ کے واقعات عام ہیں، چھوٹی بچیوں کے ساتھ بھی گینگ ریپ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بعض واقعات میں بااثر افراد بھی ملوث ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا جب بھارت ایک تھا اور تمام اقلیتیں سکون کے ساتھ رہ رہی تھیں لیکن جب سے مودی کی حکومت آئی ہے بھارت مذہبی بنیادوں پر تقسیم نظر آتا ہے اور لوگ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا چیز کھا سکتے ہیں اور کیا نہیں کھا سکتے، یہ کیسی جمہوریت ہے؟ بھارت کی حکومت کو اقلیتوں کو حقوق دینا ہونگے۔ وجل کے شرکاء نے بھارت میں اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے کیلئے نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کے چند افراد نے بھارت کے حق میں نعرے بلند کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔۔لیکن مظاہرے ایسے ختم نہیں ہوتے ، مظاہرین ایسے خاموش نہیں ہوتے ، مودی حکومت کو اقلیتوں کو حقوق دینا ہونگے ۔۔۔۔




 

Seemab_khan

ღ ƮɨƮŁɨɨɨ ღ
Moderator
Dec 7, 2012
7,629
5,462
1,113
✮hმΓἶρυΓ, ρმκἶჰནმῆ✮
کیوں زندگی ہے خطرے میں ۔۔۔؟تحریر : طیبہ بخاری

اپنی بستی میں جہاں جائوں وہاں بولتا ہے لوگ کہتے ہیں سناٹا کہاں بولتا ہے ٭:کیوں بڑے ملکوں کے بڑے حکمرانوں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ان کی وجہ سے لاکھوں ، کروڑوں زندگیاں کیوں ہیں خطرے میں ۔۔۔۔؟ کیوں انسانی جانیں محفوظ نہیں ۔۔۔؟
View attachment 114496

٭:کیوںشخصی نظریہ ، شخصی آزادی ، مذہبی آزادی حاصل نہیں ؟
٭:اپنے خطے میں جھانکیں تو ۔۔۔جنوبی ایشیاء کا مستقبل ہمیشہ خطرات سے دوچار کیوں رہتا ہے ۔۔۔؟


٭:ترقی کی دوڑ میں سارک ممالک آگے کی بجائے پیچھے کا سفر کیوںکرتے ہیں ۔۔۔؟


٭:حکومتیں مقبولیت کی بجائے عوام میں اپنا اعتماد کیوں کھو رہی ہیں ۔۔۔؟کیوں انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔۔؟


٭:بد امنی ، بے روزگاری، جہالت اور صحت کے مسائل کیوں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ۔۔۔؟


٭:جنوبی ایشیاء میں بسنے والے کروڑوں انسان اپنے ہی خطے میں بسنے کو ترجیح کیوں نہیں دیتے ۔۔۔؟کیوں پردیس جاتے ہیں۔۔۔در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں ۔۔۔؟


٭:کیوں سارک ممالک کا مستقبل محفوظ دائرے میں شمار نہیں کیا جاتا۔۔۔؟کیوں شدت پسندی نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔۔؟ کیوں یہاں خودکشیاں اور خود کش حملے بڑھ رہے ہیں ۔۔۔؟کیوں عبادتگاہوں پر حملے ہوتے ہیں ۔۔۔؟


٭:کیوں خطے پر ہر وقت جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں ۔۔۔؟کیوں دھمکیوں اور بالادستیوں کا سلسلہ نہیں رُکتا ؟


ان تمام سوالوں اور خدشات کے جواب میں عالمی اداروں کے چند چشم کشا انکشافات کافی ہیں


مختصراًجائزہ لیں کہ دنیا کو اب تک جنگوں اور نفرتوں سے کیا ملا ۔۔۔؟کس کا بھلا ہوا ۔۔۔؟ کس ملک نے ترقی کی ۔۔؟ توایک سطر میں جواب اتنا سا ہے کہ کسی کو کچھ نہیں ملا بلکہ انسانوں نے کھویا ہی کھویا ، ملک برباد ہی ہوئے ، کوئی بسا نہیں بس تباہی ملی ۔۔۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 7 کروڑ سے زائد انسان جنگوں اور دیگر تنازعات کے باعث بے گھر ہیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ ایسے انسانوں کی مجموعی تعداد دنیا کے 20ویں بڑے ملک کی آبادی کے برابر ہے۔ ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق گذشتہ برس کے اختتام پر دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں میں جنگوں، مسلح تنازعات اور خونریز بحرانوں کے باعث اندرونی یا بیرونی نقل مکانی پر مجبور ہو چکے انسانوں کی تعداد تقریباً 71 ملین بنتی تھی۔اس ادارے کے مطابق یہ 70.8 ملین انسان ایسے لوگ ہیں، جو محض اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنا گھر بار ترک کرنے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں 2 ملین زیادہ ہے۔یوں عالمی سطح پر نقل مکانی پر مجبور ان بے گھر انسانوں کی تعداد کا یہ ایک نیا لیکن برا عالمی ریکارڈ ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانوں کو انسانوں ہی کے پیدا کردہ بحرانوں کے باعث کس کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے ’’گلوبل ٹرینڈز‘‘ یا ’’عالمی رجحانات‘‘ کے عنوان سے جاری کی جانے والی اس تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق آج دنیا میں اتنے زیادہ انسان جنگوں اور بحرانوں کی وجہ سے بے گھر ہیں کہ اگر وہ سب کسی ایک ملک میں رہ رہے ہوتے، تو وہ اپنی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 20 واں سب سے بڑا ملک ہوتا۔یو این ایچ سی آر کے مطابق ان تقریباً 71 ملین انسانوں میں ایسے مہاجرین، تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں، جو عشروں سے اپنے آبائی ممالک اور خطوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں، صرف اس لیے کہ ان کی آبائی علاقوں میں زندگیاں ابھی تک خطرے میں ہیں۔یو این ایچ سی آر کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے جنیوا میں رپورٹ کے اجراء پر صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ادارہ اس رپورٹ کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ مہاجرین اور تارکین وطن کو اپنے اپنے ممالک میں سلامتی اور روزگار کے مواقع کیلئے خطرات کے طور پر پیش کرنے سے احتراز کریں۔ یہ بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور انسان تو خود اپنی زندگیوں کو درپیش خطرات کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ 2018ء کے اختتام پر 70.8 ملین انسان بے گھر تھے، 2017 ء کے اختتام پر ان کی تعداد 68.5 ملین بنتی تھی اور اگر 2008ء اور 2018ء کے درمیانی عشرے کو دیکھا جائے تو اس دوران ایسے انسانوں کی تعداد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ۔ ایک اور تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ ان تقریباً 71 ملین انسانوں میں سے 41 ملین، یا ہر 5میں سے 3 انسان ایسے ہیں جو جنگوں، بحرانوں اور تنازعات کے باعث اپنے آبائی ممالک میں ہی داخلی طور پر ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ ایسے مہاجرین میں بڑی تعداد خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کی ہے جو 13 ملین بنتی ہے۔


گذشتہ برس 23 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے یہ تعداد 20 برس پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ 37 ہزار افراد روزانہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ایسے افراد کو پناہ دینے والے ممالک میں ترکی سرِفہرست ہے جہاں پناہ گزینوں کی تعداد 37 لاکھ ہے جبکہ پاکستان دوسرے نمبر ہے جہاں اس وقت پناہ گزینوں کی تعداد14 لاکھ ہے۔ یوگینڈا میں 12 لاکھ، سوڈان میں 11 لاکھ جبکہ جرمنی میں بھی 11 لاکھ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ’’ ان اعداد و شمار میں جو چیز ہمیں نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ طویل مدت میں جنگوں، تنازعات اور جبر سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگرچہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تلخی کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ساتھ ہی ہم دوسرے لوگوں کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور سے جو ان افراد کو پناہ دیتے ہیں۔‘‘


اب ذرا دنیا کے بڑے اور اہم خطے جنوبی ایشیاء پر نظر دوڑائیں تو امریکہ کہہ رہا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مذہبی آزادی پر جاری رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سال 2018 ء میں انتہاپسند ہندوئوں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر حملے جاری ہیں۔اقلیتوں کو گائے ذبح کرنے یا گائے کی خریدوفروخت کرنے کے الزام کی آڑ میں نشانہ بنایاگیا۔ ایک تہائی ریاستوں نے گائے ذبح کرنے کے خلاف قانون سازی کی جو غیرہندوئوں اور دلتوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ گائے کی حفاظت کرنے والے ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور دلتوں پر حملوں میں اضافہ ہورہاہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیاگیاکہ امریکی حکومت کو بھارت پر دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ مذہبی آزادی کی صورتحال جاننے کیلئے امریکی وفد کو بھارت کادورہ کرنے کی اجازت دے۔


دوسری جانب برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن لندن کے سامنے سائوتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ کی جانب سے وجل کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے بھارت کیخلاف نعرے لگائے اور کہا کہ بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں نے مذہبی اقلیتوں پر زمین تنگ کردی ہے وہاں روزانہ کسی بھی بہانے سے مسلم اور دلت کمیونٹی کے افراد کو قتل کردیا جاتا ہے۔ چند شرکاء نے وزیراعظم نریندر مودی کی تصویراپنے چہرے پر لگا رکھی تھی اور سرخ رنگ سے رنگے ہاتھ خون کی عکاسی کررہے تھے، اس موقع پر امرت ولسن نے کہا ’’ بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے سائوتھ ایشیاء سالیڈیرٹی گروپ نے گلوبل کمپین چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ وجل اس ضمن میں پہلا قدم ہے۔ بھارت کے الیکشن میں بی جے پی کو واضح کامیابی ملی لیکن جس طریقے سے یہ جماعت اقتدار میں آئی ہے اس سے خود بھارت میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔لوک سبھا الیکشن کو تقریباً ایک ماہ گزر چکا لیکن اب بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن کسی مسلمان یا دلت کو بھارت میں قتل نہ کیا جائے۔ لوک سبھا الیکشن میں جس طرح سے بی جے پی کو کامیابی ملی اس پر عوام کو الیکٹرونک ووٹنگ مشینوںکے حوالے سے بھی تحفظات ہیں ، عوام کی بڑی تعداد کہتی ہے کہ اس معاملے میں مبینہ طور پر فراڈ ہوا ہے۔ اور اگر فراڈ نہیں بھی ہوا تو بھارت میں پاکستان سے جنگ کا ماحول پیدا کیا گیا۔ پاکستان پر حملے کی تیار کی گئی جس سے بھارت میں بسنے والے خوفزدہ ہوگئے اور ان کا خیال تھا کہ مودی ہی انہیں اقتدار میں آکر بچالیں گے۔‘‘ محترمہ کلپنا نے کہا’’ بھارت میں کبھی گائے کی حفاظت اور اس کا گوشت کھانے والوں کیخلاف باتیں شروع کردی جاتی ہیں جوکہ دراصل اقلیتوں کیخلاف ظلم کرنے کے بیان ہوتے ہیں بھارت میں ایک فاشٹ حکومت ہے حالیہ الیکشن میں امن اور ترقی کی بات نہیں کی گئی بلکہ جنگ اور نفرت کی باتیں کرکے قوم پرستی کی بنیاد پر الیکشن جیتا گیا۔ بی جے پی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا اور الیکشن کمیشن کے علاوہ عدلیہ کے ایک حصے کو بھی اپنے زیراثر کرلیا ہے اور کسی کو بھی اس کیخلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ برطانیہ میں آباد بھارتی کمیونٹی کو ان ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔ ‘‘صاحب جویل نے کہا ’’بھارت میں انتہا پسندوں نے اقلیتوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ دلت اور مسلمانوں کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ ان مظالم کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور تمام اقلیتوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ بھارت دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن وہاں جو حالات ہیں وہ شرمناک ہیں۔ ‘‘ڈوٹی فرینڈس کے مطابق وہ مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے مظاہرے میں شریک ہوئیں، بھارت میں عوام نے نریندر مودی کو اس لئے ووٹ نہیں دیئے تھے کہ کمزور اقلیتیں مزید غیر محفوظ ہوجائیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے علاوہ خواتین کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ ریپ کے واقعات عام ہیں، چھوٹی بچیوں کے ساتھ بھی گینگ ریپ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ بعض واقعات میں بااثر افراد بھی ملوث ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی ایکشن ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایک وقت تھا جب بھارت ایک تھا اور تمام اقلیتیں سکون کے ساتھ رہ رہی تھیں لیکن جب سے مودی کی حکومت آئی ہے بھارت مذہبی بنیادوں پر تقسیم نظر آتا ہے اور لوگ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا چیز کھا سکتے ہیں اور کیا نہیں کھا سکتے، یہ کیسی جمہوریت ہے؟ بھارت کی حکومت کو اقلیتوں کو حقوق دینا ہونگے۔ وجل کے شرکاء نے بھارت میں اقلیتوں کو برابری کے حقوق دینے کیلئے نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کے چند افراد نے بھارت کے حق میں نعرے بلند کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔۔لیکن مظاہرے ایسے ختم نہیں ہوتے ، مظاہرین ایسے خاموش نہیں ہوتے ، مودی حکومت کو اقلیتوں کو حقوق دینا ہونگے ۔۔۔۔





is kyuuu ka jawab shayad kch hmary apny aamaaal bhi hyn...
 
Top
Forgot your password?