گدھے پالتو کب بنے؟

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
گدھے پالتو کب بنے؟
117549

کرسٹ ہیرسٹ

جدید پالتو گدھوں ( Equus asinus) کی نسل جنگلی افریقی خروں (E. africanus) سے شمال مشرقی افریقہ میں عہدِ فراعین سے قبل مصر سے تقریباً چھ ہزار برس قبل نکلی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان جنگلی خروں کی دو ذیلی اقسام، نمیبیائی خر اور صومالی خر، نے جدید گدھوں کی پیدائش میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ڈی این اے کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق جینیاتی طور پر پالتو گدھے نمیبیائی خروں کے سلسلے کی کڑی ہیں۔ خروں کی مذکورہ دونوں ذیلی اقسام آج بھی موجود ہیں البتہ ان کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ قدیم مصری تہذیب سے گدھوں کا تعلق جانا مانا ہے۔ مثال کے طور پر ’’سلطنتِ نو‘‘ کے فرعون توتن خامون کے مقبرے میں اشرافیہ کو جنگلی خروں کا شکار کرتے دکھایا گیا ہے۔ گدھوں کی حقیقی اہمیت ان کے سامان ڈھونے کے باعث ہے۔ گدھے صحرا میں رہ سکتے ہیں اور صحرائی علاقوں میں سامان اٹھا کر لے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے خانہ بدوش ان پر اپنا سامان لا سکتے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں گدھے خوراک اور تجارتی سامان کی ترسیل کا شاندار ذریعہ تھے۔ گدھے پالتو بنانے کے شواہد کو ان کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کے تعین کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ پالتو گدھے جنگلی خروں سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے پاؤں کی ہڈیاں نسبتاً چھوٹی اور کمزور ہوتی ہیں۔ بعض مقامات پر گدھوں کی قبریں ملی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قابلِ بھروسہ جانور کی کتنی قدر کی جاتی تھی۔ گدھوں پر سامان لادنے (یا بہت زیادہ لادنے) سے ریڑھ کی ہڈی کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد بھی ملے ہیں۔ جنگلی خروں کو یہ صورتِ حال درپیش نہیں رہی۔ پالتوں گدھوں کی ہڈیوں کے اولین آثار 4600-4000 قبل مسیح کے ہیں۔ یہ قاہرہ کے قریب بالائی مصر میں معادی کے مقام المعمری سے ملے ہیں۔ یہ عہدِ فراعین سے قبل کے ہیں۔ عہدِ فراعین سے قبل کے گدھوں کی متعدد قبریں ملی ہیں جن میں ان کے مکمل ڈھانچے ہیں۔ ان میں ابیدوس (3000 ق م) اور تارخان (2850 ق م) کے مقامات شامل ہیں۔ 2800-2500 ق م کے درمیانی عرصے کی ان کی ہڈیاں شام، ایران اور عراق کے مقامات سے بھی برآمد ہوئی ہیں۔ لیبیا میں وان موہی جاج کے مقام پر پالتو گدھے کی ملنے والی ہڈیاں کم و بیش تین ہزار برس پرانی ہیں۔ 2008ء کی ایک تحقیق میں ابیدوس کے مقام پر عہدِ فرعین سے قبل کے 10 گدھوں (کم و بیش 3000 ق م قدیم) کے ڈھانچوں کا جائزہ کیا گیا۔ یہ اینٹوں سے بنائے گئے تین مقبروں سے ملے۔ جدید اور قدیم جانوروں کے ڈھانچوں کے تجزیے اور تقابل سے ظاہر ہوا کہ قدیم گدھوں کو بار برداری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان کی فقاری (vertebral) ہڈیوں پر دباؤ سے اس کا پتا چلتا ہے۔ نیز گدھوں کے اعضا کی اشکال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جدید گدھوں اور جنگلی خروں کی درمیانی حالت میں تھے، اس سے محققین نے نتیجہ نکالا کہ پالتو بنانے کا عمل آہستہ آہستہ ہوا اور صدیوں جاری رہا۔ شمال مشرقی افریقہ میں ماضی بعید، ماضی قریب اور جدید گدھوں کے ڈی این اے نمونوں پر 2010ء میں ہونے والی ایک تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ پالے جانے والے گدھے نمیبیائی جنگلی خروں سے نکلے۔ علاوہ ازیں ایسا لگتا ہے کہ گدھوں کو سدھانے کی کوششیں بار بار کی گئیں، جن کا آغاز 8900-8400 برس قبل ہوا۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?