گلستان محل دیکھنے والوں کو حیران کردیتا ہے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,466
1,313
Lahore,Pakistan
گلستان محل دیکھنے والوں کو حیران کردیتا ہے


طیب رضا عابدی

ویسے تو دنیا میں قدیم ترین عمارات کی کمی نہیں جو اپنے دلکش طرز تعمیر کی بنا پر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی ایک ایسی ہی عدیم النظیر عمارت ہے جسے دیکھتے ہی انسان حیرت کا مجسمہ بن جاتا ہے ۔ جس طرح تاج محل آگرہ کو جو شخص پہلی بار دیکھتا ہے تو سکتے میں آجاتا ہے ۔ کچھ ایسا ہی حال ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو پہلی بار گلستان محل کا نظارہ کرتے ہیں ۔ گلستان محل ناصرف تہران کی قدیم ترین اور یادگار عمارت ہے بلکہ اسے عالمی ورثے کا بھی درجہ حاصل ہے ۔ گلستان محل کے اندر کئی شاہی عمارات ہیں اور ایک دور میں یہ عمارات تہران کے قلعے سے ملحق تھیں ۔ یہاں کئی باغات ہیں ، شاہی نوادرات بھی ہیں اور ایرانی دستکاری کے کئی نمونے بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ18 ویں اور19 ویں صدی میں یورپ کی طرف سے دیئے گئے بے شمار تحائف بھی موجود ہیں ۔ قلعے کی بنیادیں صفوی بادشاہ تہماست اول کے دور (1524-1576) میں رکھی گئیں۔ بعد میں کریم خان نے اس کی تزئین و آرائش کی ۔ آغا محمد خان نے تہران کو اپنا دارالحکومت منتخب کیا تو گلستان محل قاجار سلسلۂ شاہی کی سرکاری رہائش گاہ قرار دیا گیا۔ 1865ء میں اس محل کو حاجی ابوالحسن معمار نوائی نے دوبارہ تعمیر کیا۔ پہلوی خاندان 1925سے 1979تک برسراقتدار رہا۔ اس دور میں محل کو شاہی استقبالیوں کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ پہلوی خاندان نے اپنا محل نیاوران کے علاقے میں خود تعمیر کیا۔1925سے1945 کے درمیان گلستان محل کی کئی عمارتیں رضا شاہ کے احکام پرگرا دی گئیں۔ رضا شاہ کا خیال تھا کہ صدیوں پرانے قاجار محل کو جدید شہر کی نشوونما کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ اسی نظریے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پرانی عمارتوں کو گرادیا گیااور ان کی جگہ جدید انداز کی تجارتی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ گلستان محل کمپلیکس17 مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے جن میں عجائب گھر اور ہالز بھی شامل ہیں ۔ تقریباً سارا کمپلیکس قاجار بادشاہوں کے 131سالہ دور میں تعمیر کیا گیا۔ ان جگہوں کو اہم تقریبات کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ تخت مرمر 1806ء میں تعمیر کیا گیا۔ یہ فتح علی شاہ کے حکم پر تعمیر ہوا۔ یہ تخت ایرانی طرز تعمیر کا بہترین نمونہ ہے ۔ تخت مرمر تاریخی قلعے کی قدیم ترین عمارات میں سے ایک ہے ۔ تخت مرمر یزد صوبے کے مشہور زرد پتھر سے بنایا گیا ہے ۔ تخت کے بنانے میں سنگ مرمر کے65 ٹکڑے استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کا ڈیزائن مرزا بابا نقش باشی نے تیار کیا تھا۔ باشی دربار کا مصور تھا۔ شاہی معمار محمد ابراہیم نے تعمیراتی کام کی نگرانی کی۔ اس کے علاوہ اس نے کئی مشہور ماہر تعمیرات کے کام کا بھی جائزہ لیا۔ 1759میں یہ عمارت کریم خان کی رہائش کا حصہ تھی۔ ٹیرس کے اندر ایک چھوٹا تخت مرمر بھی ہے ۔ قاجار خاندان کا ناصر الدین شاہ گلستان محل کے اس حصہ کو بہت پسند کرتا تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ زیادہ تر یہیں آرام کرتا تھا۔ اس محل کا شاندار تالاب گھر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ تالاب گھر میں یورپ کے مصوروں کا قابل تحسین کام نظر آتا ہے جو انہوں نے دربار میں پیش کیا تھا،پھر اس کا عظیم الشان ہال بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس ہال میں ایرانی کاریگروں نے شیشے کا بڑا زبردست کام کیا تھا۔ اس ہال کو ناصر الدین شاہ کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس کی جگہ پہلے کرسٹل ہال موجود تھا۔ اس کے علاوہ جو ہالز مشہور ہیں ان میں کنٹینرز ہال، آئیوری ہال، مررہال، سلام ہال اور ڈائمنڈ ہال شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ تحفوں کا عجائب گھر بھی بہت مشہور ہے ۔ عجائب گھر کی یہ عمارت سلام ہال کے نیچے موجود ہے۔ یہ پہلے ایرانی عجائب گھر کا حصہ ہے جسے محمد ابراہیم خان معمار باشی نے تعمیر کیا تھا۔ ناصر الدین شاہ کے دور میں اس عمارت کو ویئر ہائوس کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اور اسے قاجاربادشاہوں کے لئے وقف کردیا گیا تھا۔ پہلوی خاندان کے دور میں ا س وئیر ہائوس کو عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ قاجار بادشاہوں کو جو تحائف دیئے گئے تھے ان کی نمائش کی جاسکے۔ آج ان تحائف کے علاوہ کچھ نایاب اشیا بھی اس عجائب گھر میں رکھی گئی ہیں جن میں نادر شاہ کے تیر اور کمانیں ، فتح علی شاہ کے بازو پر لگانے والی پٹی، آغا محمد خان کا تاج، اور شتر مرغ کا انڈا(جسے بڑی خوبصورتی سے رکھا گیا ہے) شامل ہیں ۔ گلستان محل ایران کی وہ تاریخی عمارت ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?