گلے کا سرطان

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,822
1,735
1,313
Lahore,Pakistan
گلے کا سرطان
114476


محمد شاہد

گلے کے سرطان ان اعضا میں پیدا ہوتے اور بڑھتے ہیں جو نگلنے، بولنے اور سانس لینے میں مددگار ہوتے ہیں۔ ان میں نصف اقسام کے سرطان گلے ہی میں ہوتے ہیں، یعنی اس نالی میں جو ناک کے پیچھے سے شروع ہو کرگردن کے اختتام تک جاتی ہے۔ اسے ’’فیرینکس‘‘ (pharynx) بھی کہا جاتا ہے۔ دیگر نرخرے میں ہوتے ہیں۔ یہ سرطان تیزی سے بڑھتے ہیں، اس لیے انہیں شکست دینے کے لیے جلد علاج شروع کرنا اہم ہے۔ علامات: علامات یہ ہو سکتی ہیں؛ آواز میں تبدیلی، نگلنے یا سانس لینے میں مشکل، گلا دُکھنا، گردن پر گومڑ/گلٹی یا وزن میں اچانک کمی۔ اگر یہ علامات چند ہفتے برقرار رہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ خطرہ کن سے ہے؟:زیادہ عرصہ تمباکو کا استعمال کرنے سے۔ اسے سگریٹ کی شکل میں پینا یا چبانا سر اور گردن کے سرطان (جس میں گلے کا سرطان شامل ہے) کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ الکحل کا استعمال بھی اس سرطان کی وجہ بنتا ہے۔ ایچ پی وی یا ہیومن پاپیلوما وائرس گلے کے اس حصے جس میں زبان اور ٹانسلزہوتے ہیں، میں سرطان کا باعث بنتا ہے۔ حفظِ ماتقدم کے لیے بچوں کو ایچ پی سی کی ویکسین بھی دی جاسکتی ہے۔ مردوں میں گلے کے سرطان کا امکان عورتوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر افراد کو یہ 65 برس کے بعد ہوتا ہے۔ اسبسٹوس اور نِکل کے آس پاس زیادہ رہنے اور سلفیورک ایسڈ کے بخارات سے اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اقسام: زیادہ تر اقسام گلے اور نرخرے کے چپٹے، باریک خلیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ان کے مقام سے انہیں شناخت کرتے ہیں جو یہ ہیں۔ ناسوفیرینکس؛ یہ ناک کے پیچھے گلے کے اوپر والا حصہ ہے۔ اوروفیرینکس؛ یہ منہ کے پیچھے والا حصہ ہے۔ سرطان زیادہ تر ٹانسلز، زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔ ہائپوفیرینکس؛ یہ نرخرے کے پیچھے تنگ مقام پرہوتا ہے۔ نرخرے کے تینوں حصوں میں سرطان ہو سکتا ہے۔ تشخیص: ڈاکٹر آپ کا جائزہ لے گا، عمومی صحت، تمباکو نوشی وغیرہ کے بارے میں پوچھے گا۔ کسی آلے کی مدد سے گلے کے اندر کا جائزہ بھی لے سکتا ہے۔ اگر ڈاکٹر کو سرطان کا امکان نظر آئے گا تو وہ ٹیسٹ کرانے اور کچھ دیگر افعال کے احکامات دے گا۔ ان کا انحصار ممکنہ سرطان کی قسم پر ہوتا ہے۔ ان میں ایک بائیوپسی ہے جس میں بافتوں سے نمونہ لے کر خوردبین کے ذریعے کینسر کے خلیوں کو دیکھا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ گلٹی یا گومڑ سرطان کی وجہ سے ہے یا نہیں۔ اس میں سرجری، نیڈل یا اینڈوسکوپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اینڈوسکوپ ایک لچکدار نالی ہوتی ہے جس میں کیمرہ نصب ہوتا ہے، اسے ناک یا منہ سے گلے میں اتارا جاتا ہے۔ اس میں موجود ایک اور آلہ بائیوپسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گلٹی تلاش کرنے کے لیے تصویری ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس سے اس کے حجم اور پھیلاؤ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس میں ایم آر یا سی ٹی سکین، پی ای ٹی سکین اور ایکس رے شامل ہیں۔ درجے: گلے کے سرطان کی ہر قسم کے درجے مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم عمومی طور پر درجہ اول اور درجہ دوم چھوٹے سرطان ہوتے ہیں جو عضو کے ایک ہی مقام تک محددو ہوتے ہیں۔ درجہ سوم میں مرض لمف نوڈز یا گلے کے دوسرے حصے تک پہنچ جاتا ہے۔ درجہ چہارم میں اس کے ساتھ مرض سر، گردن یا سینے تک پھیل جاتا ہے۔ اس درجے میں پھیپھڑوں یا جگر وغیرہ تک پہنچنا سب سے خطرناک ہوتا ہے۔ علاج: ڈاکٹر گلٹی سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہیں، سرطان کو پھیلنے سے روکنے، نگلنے اور بولنے کی صلاحیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ علاج کا انحصار سرطان کے درجے، مقام اور عمومی صحت پر ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ اقسام کے علاج ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک تابکاری ہے جس میں طاقتور شعاعوں کو سرطان کے خلیے ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ باہر سے جسم میں پھینکی جاتی ہیں۔ بعض اوقات، جب درجہ ابتدائی ہو، صرف اسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعد کے درجوں میں اسے کیموتھراپی یا سرجری کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ سرجری ہے۔ اس کے علاوہ کیموتھراپی بھی کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ادویات بھی استعمال ہوتی ہیں جو سرطان کے خلیوں کو ان اجزا کی فراہمی روک دیتی ہیں جو ان کی بڑھوتری کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ بحالی: علاج کے بعد یہ سرطان مریض کو خاصا نچوڑ چکا ہوتا ہے۔ اس لیے آرام، ورزش (اگر ممکن ہو) اور صحت مند خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، بالخصوص پھلوں اور سبزیوں کی۔ تمباکونوشی اور الکحل علاج کو کم مؤثر بناتے ہیں، ان سے دوسرے سرطان ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔
 
Top
Forgot your password?