گھریلو زندگی کے بنیادی اصول ،،تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
گھریلو زندگی کے بنیادی اصول ،،تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے ذریعہ ایک مکمل عائلی نظام اور اس کے اصول و آداب سکھائے جس کی بدولت انسان کو عائلی زندگی میں راحت و سکون نصیب ہوتا ہے۔مال و مکان کا تحفظ، عصمت و عفت کی حفاظت، اولاد کی تربیت، ایک دوسرے کے بارے میں احساس ذمہ داری اور آپس کی محبت نصیب ہوتی ہے۔چنانچہ اسلام نے بیوی کے حقوق و فرائض کے بارے میں خاص طور پر تعلیم دی۔ جس سے زندگی میں راحت و سکون ہونے کی وجہ سے بچے بھی خوشگوار ماحول میں تربیت پا کر عمدہ شہری اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں۔ جب بیوی کے حقوق و فرائض کی بات کی جائے گی تو شوہر کے حقوق وفرائض کی بات بھی آجائے گی اس لیے کہ جو بیوی کے حقوق ہیں وہ شوہر کے فرائض ہیں اور جو بیوی کے فرائض ہیں وہ شوہر کے حقوق ہیں۔چنانچہ بیوی بننے کے بعد اسلام نے عورت کا یہ حق بیان فرمایا:



{عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کم خیر کم لا ہلہ وانا خیر کم لا ہلی}

’’حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’ وہ شخص تم میں سے زیادہ اچھا ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو (اور فرمایا) اور میں اپنی بیویوں کے لیے تم میں سے زیادہ اچھا ہوں۔‘‘

مل جل کر زندگی بسر کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان کی اس فطری ضرورت کی وجہ سے اسلام نے عائلی زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔

عائلۃ عربی زبان میں بیوی اور گھر کے دیگر افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عائلی زندگی سے اسلام نے قرآن حکیم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے ذریعہ ایک مکمل عائلی نظام اور اس کے اصول و آداب سکھائے جس کی بدولت انسان کو عائلی زندگی میں راحت و سکون نصیب ہوتا ہے۔ مال و مکان کا تحفظ، عصمت و عفت کی حفاظت، اولاد کی تربیت، ایک دوسرے کے بارے میں احساس ذمہ داری اور آپس کی محبت نصیب ہوتی ہے۔چنانچہ اسلام نے بیوی کے حقوق و فرائض کے بارے میں خاص طور پر تعلیم دی۔ جس سے زندگی میں راحت و سکون ہونے کی وجہ سے بچے بھی خوشگوار ماحول میں تربیت پا کر عمدہ شہری اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں۔ جب بیوی کے حقوق و فرائض کی بات کی جائے گی تو شوہر کے حقوق وفرائض کی بات بھی آجائے گی اس لیے کہ جو بیوی کے حقوق ہیں وہ شوہر کے فرائض ہیں اور جو بیوی کے فرائض ہیں وہ شوہر کے حقوق ہیں۔چنانچہ بیوی بننے کے بعد اسلام نے عورت کا یہ حق بیان فرمایا:

{واتوا النساء صدقتہن نحلۃ}

یعنی ’’تم عورتوں کے حق مہر کو خوش دلی سے ادا کر دیا کرو۔‘‘

چنانچہ اگر مہر نکاح کے وقت ادا نہ کیا جائے تو پھر بھی ساری زندگی وہ واجب الاداء رہتا ہے۔ مرد صرف حق مہر دے کر فارغ نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے بعد بیوی کا حق ہے کہ شوہر بیوی کی ضروریات زندگی کو پورا کرے نان نفقہ اور رہائش یعنی بیوی کا کھانا پینا، اور اس کے رہنے سہنے کا بندوبست کرنا یہ بیوی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ فرمایا تو اس کی وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ ’’وبما انفقوا من اموالہم‘‘ یعنی ’’ان مردوں نے اپنے مال کو خرچ کیا ہے۔‘‘

ایک شخص نے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے پوچھا کہ بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو خود کھائے وہ اسے کھلائے جو خود پہنے وہ اسے پہنائے۔لہٰذا بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اس کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرے۔ بلکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیوی کا اس سے بھی آگے یہ حق ارشاد فرمایا:

{وعاشرو ھن بالمعروف}

’’اور تم ان عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین انسان کی پہچان یہ بتائی کہ :

{خیر کم خیر کم لاہلہ}

’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہترہو۔‘‘

اس لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم خود اپنی زندگی کے ذریعہ سکھائی کیونکہ کامیاب ازدواجی زندگی کا یہ بنیادی اصول ہے۔

اسلام نے بیوی کے علاوہ باقی غیر عورتوں سے ہر طرح کے قلبی رجحانات کی ہر مرحلہ میں حوصلہ شکنی کی اور سخت ممانعت فرمائی اور یہ بتایا کہ ازدواجی زندگی کے اعتبار سے قلبی محبت کا حق صرف بیوی کا ہے۔ اس سے پاک دامنی اور عفت نصیب ہوتی ہے اور گھریلو زندگی میں ایک دوسرے کا اعتماد حاصل رہتا ہے۔ باہمی اعتماد کو اس وقت ٹھیس پہنچتی ہے جب ایک دوسرے کی نجی باتوں اور رازوں کی حفاظت نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حق کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

{ہن لباس لکم وانتم لباس لہن}

’’عورتیں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم عورتوں کے لیے لباس ہو۔‘‘

جس طرح لباس بدن کو ڈھانپ لیتا ہے اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے رازوں پر پردہ ڈالے رکھیں۔ بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اس کے ساتھ بے تکلفی اور شگفتہ مزاجی کے ساتھ پیش آئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گھریلو زندگی میں یہ بات خاص طور پر امت کو سکھائی تاکہ د ونوں ایک دوسرے کی زندگی میں تعاون کرنے والے بنیں۔اسی طرح بیوی کے رشتہ داروں سے اچھے سلوک سے پیش آنا بھی بیوی کے حقوق میں شامل ہے اور بیوی کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ شوہر کے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آئے۔ گھریلو زندگی میں عام طور پر اس وقت بے سکونی آتی ہے جب شوہر یہ توقع کرے کہ بیوی اس کے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ لیکن وہ خود بیوی کے رشتہ داروں سے اچھے سلوک سے پیش نہ آئے حالانکہ یہ بھی بیوی کے حقوق میں شامل ہے۔لیکن اگر حالات آئندہ زندگی گزارنے کے قابل نہ رہیں تو اسلام نے عورت کو خلع کا حق دیا ہے کہ بیوی کچھ معاوضہ دے کر شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے لیکن اگر ہمارے خالق و مالک نے بیوی کے جو فرائض بتائے ہیں ان کو بیوی پیش نظر رکھے اور شوہر کے جو فرائض بتائے ہیں‘ شوہر ان کا خیال رکھے تو طلاق اور خلع تک نوبت ہی نہیں پہنچتی۔اللہ تعالیٰ نے بیوی کے فرائض یوں بیان فرمائے:

{فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ}

ترجمہ :’’کہ بیویاں فرمانبردار ہوتی ہیں اور خاوند کی غیر حاضری میں ان چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں جن کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کی ہے۔‘‘

اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب گھریلو زندگی کے لیے بیوی کے اہم ترین فرائض بتا دیئے۔ ظاہر ہے نیک بیوی تب ہو گی جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گی۔ اور قانتات یعنی فرمانبردار تب ہو گی جب کہ آپس میں محبت اور عزت و احترام ہو اگر دل میں شوہر کے لیے محبت نہ ہو تو پھر اطاعت و فرمانبرداری، عزت و احترام اور خدمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ رب العزت نے بیوی کا یہ فرض بھی بتایا کہ ’’حفظت للغیب‘‘ معلوم ہوا کہ شوہر کے گھر اور اس کے مال کی حفاظت اس کے فرائض میں شامل ہے اور یہ تمام امور سلیقہ شعاری میں شامل ہیں۔ سلیقہ شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اس سے گھر میں پرسکون ماحول نصیب ہوتا ہے اس سے شوہر اور بچوں کے لیے گھر میں دلچسپی کا سامان پیدا ہوتا ہے اور یہی باتیں آئندہ آنے والی نسل میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ سلیقہ شعار اور دیندار بیوی کے بچے بھی یقینی طور پر دیندار اور سلیقہ شعار ہوں گے۔

گھریلو زندگی میں میاں بیوی ایک دوسرے سے عدل و انصاف کے طلبگار ہیں۔ گھریلو زندگی میں کامیابی کا راز یہی ہے کہ شوہر بیوی کے حقوق انصاف کے ساتھ ادا کرے اور بیوی بھی خاوند کے حقوق کے بارے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھے۔ اسی طرح والدین اور اولاد کے درمیان بھی عدل و انصاف کی کمی خانگی زندگی کی تباہی کا باعث بن جاتی ہے ۔

{عن ابی امامۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ کان یقول ما استفاد المومن بعد تقوی اللہ خیرا لہ من زوجۃ صالحۃ ان امرہا اطاعتہ وان نظر الیہا سرتہ وان اقسم علیہا ابرتہ وان غاب عنہا نصحتہ فی نفسہا ومالہ}

(رواہ ابن ماجہ)

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ’’ مومن بندہ نے تقویٰ کی نعمت کے بعد کوئی ایسی بھلائی حاصل نہیں کی جو اس کے حق میں نیک بیوی سے بڑھ کر ہو (پھر نیک بیوی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ) اگر شوہر اسے حکم کرے (جو خلاف شرع نہ ہو) تو اس کا کہا مانے اور شوہر اس کی طرف دیکھے تو شوہر کو خوش کرے اور اگر شوہر کسی کام کے بارے میں قسم کھا بیٹھے کہ ضرور تم ایسا کرو گی (اور وہ کام شرعاً جائز ہو) تو اس کی قسم کو سچا کر دے اور اگر وہ کہیں چلا جائے اور وہ اس کے پیچھے گھر میں رہ جائے تو اپنی جان اور اس کے مال کے بارے میں اس کی خیر خواہی کرے۔‘‘

نیک بیوی کی ایک خوبی تو یہ ہے کہ وہ شوہر کی فرمانبردار ہو‘ شوہر جو کہے اسے پورا کرے اور نافرمانی کر کے اس کا دل نہ دکھائے بشرطیکہ شوہر نے خلاف شرع کام کا حکم نہ دیا ہو۔ خلاف شرع کاموں میں کسی کی بھی فرمانبرداری جائز نہیں۔نیک بیوی کی دوسری خوبی ارشاد نبوی ﷺمیں یہ بتائی گئی کہ اگر شوہر اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کرے یعنی اپنا رنگ ڈھنگ شوہر کی مرضی کے مطابق رکھے۔ جب بیوی پر نظر پڑے تو اسے دیکھ کر اس کا دل خوش ہو۔ بات بات پر منہ پھلانا، بیمار ظاہر کرنے کی عادت بنا لینا یا میلی کچیلی اور پھوہڑ بنی رہنا ان باتوں سے شوہر کو قلبی اذیت ہوتی ہے پھر شوہر اس کی صورت بھی دیکھنے کا روادار نہیں ہوتا بلکہ گھر میں جانے کو بھی اپنے لیے مصیبت سمجھتا ہے ان میں بعض عورتیں وہ بھی ہوتی ہیں جو نماز روزے کا پابند ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو دیندار اور نیک سمجھتی ہیں حالانکہ نیک عورت کے اوصاف میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ شوہر کی فرمانبرداری کرے البتہ خلاف شرع خواہش پوری نہ کرے۔تیسری خوبی نیک بیوی کی یہ بتائی کہ اگر شوہر کسی ایسی بات پر قسم کھا لے جس کا پورا کرنا بیوی سے متعلق ہو مثلاً تم تہجد پڑھو گی، یا فلاں بچے کو نہلائو گی یا آج تم ضرور میری والدہ کے پاس چلو گی تو بیوی اس قسم کو سچا کر دے یعنی عمل کرے بشرطیکہ وہ عمل شرعاً درست ہو۔چوتھی خوبی نیک عورت کی حدیث میں یہ بیان ہوئی کہ اگر شوہر کہیں چلا جائے اور بیوی کو گھر چھوڑ جائے تو بیوی کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی جان اور شوہر کے مال کے بارے میں وہی رویہ اختیار کرے جو اس کے سامنے رکھتی تھی لہٰذا بیوی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی غیر موجودگی میں بھی اس کے مال کی حفاظت کرے۔ترمذی اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین چیزوں کا ذکر یوں فرمایا:

{افضلہ لسان ذاکر وقلب شاکر و زوجۃ مؤمنۃ تعینہ علی الایمان}

(مشکوٰۃ ص ۱۹۸)’’یعنی سب سے بہتر چیز ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل ہے اور وہ مومن بیوی ہے جو شوہر کی مدد کرے اس کے ایمان پر۔‘‘

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات شرح مشکوٰۃ میں ایمان پر مدد کرنے کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :

{ای علی دینہ بان تذکرہ الصلوٰۃ والصوم وغیرہما من العبادات وتمنعہ من الزنا وسائر المحرمات}

یعنی ’’بیوی کا شوہر کی مدد کرنا اس کے ایمان پر۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی دینداری کی فکر کرے اور اوقات مقررہ میں سے نماز، روزہ یاد دلائے اور دیگر عبادات پر آمادہ کرتی ہو، بدکاری اور دوسرے گناہوں سے باز رکھتی ہو‘‘۔

یعنی’’پوری دنیا نفع حاصل کرنے کی چیز ہے اور دنیا کی بہترین چیز جس سے نفع حاصل کیا جائے وہ نیک عورت ہے۔‘‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’عورت سے چار چیزیں دیکھ کر نکاح کیا جاتا ہے:

۔(۱)اس کے مال کی وجہ سے،

۔(۲)اس کی حیثیت کی وجہ سے،

۔(۳)اس کی خوبصورتی کی وجہ سے،

۔(۴)اس کی دینداری کی وجہ سے،

پس تم دیندار عورت کو اپنے نکاح میں لا کر کامیاب ہو جائو۔(رواہ البخاری و مسلم ص ۲۶۷)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص تمہارے پاس نکاح کا پیغام بھیجے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اس شخص سے نکاح کر دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین پر بڑا فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہو گا۔(رواہ الترمذی، مشکوٰۃ ص ۲۶۷)

معلوم ہوا کہ جس طرح دیندار بیوی بڑی نعمت ہے اسی طرح شوہر بھی دیندار تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر لڑکے میں دینداری نہیں ہو گی تو وہ لڑکی کو بھی دین پر نہیں چلنے دے گا‘ بے نمازی نہ خود نماز پڑھے گا نہ پڑھنے دے گا‘ حرام کمائے گا حرام کھلائے گا لیکن اگر شوہر اور بیوی دونوں دیندار ہوں ان میں سے ہر ایک اخلاق حسنہ سے متصف ہو، انسانیت کے شرف سے مالا مال ہو، انس و الفت کا مجسمہ اور محبت و اخوت کا عادی ہو‘ دوسروں کی خاطر تکلیف برداشت کر سکتا ہو، احباب واصحاب سے نباہ کرنے کا خوگر ہو تو پھر ایسے میاں بیوی اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ کی وجہ سے زندگی بھر خوش رہیں گے۔خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺنے میاں بیوی کے بارے میںفرمایا،

ترجمہ :’’لوگو! خدا نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا اب کوئی کسی وارث کے حق کے لیے وصیت نہ کرے۔ عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیر کسی کو دے ۔ اے لوگو! تم پر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے۔ اور وہ کوئی خیانت نہ کریں۔ اور کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اس کی اجازت ہے کہ ان کومعمولی جسمانی سزا دو۔ اگر وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلائو پہنائو۔ اور عورتوں سے بہتر سلوک کرو۔ کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں اور خود وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا تم ان کے بارے میں خدا سے ڈرو۔ کہ تم نے انہیں خدا کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لیے حلال ہوئیں۔لوگو! میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں۔ کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔ اگر اس پر قائم رہے۔ اور وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور دیکھو دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے والے لوگ دینی اُمور میں غلو ہی کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے‘‘۔واقعی ہمارے بدلتے ہوئے ماحول اور بگڑے ہوئے معاشرہ کو ایسی نیک خواتین کی ضرورت ہے جو خود بھی دین پر کاربند ہوں اور شوہر اور اولاد کو بھی دیندار بنانے کی فکر رکھتی ہوں۔اللہ رب العزت ہمیں گھریلو زندگی میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے اور اپنے فرائض انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ دعا ہم سب کے لیے قبول فرمائے۔

{ربنا ہب لنا من ازواجنا و ذریتنا قرۃ اعین}

’’اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما‘‘آمین۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?