ہر سیب پرایک سوارب بیکٹیریا

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,875
1,313
Lahore,Pakistan
ہر سیب پرایک سوارب بیکٹیریا
1564527511066.jpeg


ڈاکٹر سید فیصل عثمان

سیب ہم سب کا پسندیدہ پھل ہے۔ اسے بچے اور بوڑھے سبھی شوق سے کھاتے ہیں۔ کچھ نرم اقسام کے سیبوں کو بچے بوڑھوں کا سیب بھی کہتے ہیں۔ سیب کھاتے وقت کسی بھی پھل کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ قوت و توانائی کے علاوہ یہ جراثیموں سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ سیب کسی بھی قسم کا ہو Escherichia-Shigella نامی جراثیم کا فیورٹ پھل ہے۔ 240گرام کے ہر سیب پر کم و بیش 100 ارب بیکٹیریا دیکھے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ بیکٹیریا بیجوں میں پائے گئے، باقی ماندہ نے گودے اور چھلکے میں رہائش اختیار کر لی۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے، سائنس دانوں نے کہا ہے۔ تاہم جراثیم نامیاتی سیب پر نہیں پائے جاتے۔ کھاد اور کیڑے مار ادویات کی مدد سے اگائے گئے سیب جراثیموں کو بہت پسند ہیں۔ بعض جراثیم پھلوں کی خاصیت اور مزہ بدلنے یا بنانے میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔ اسی لئے نامیاتی اور غیر نامیاتی پھلوں اور سبزیوںکے مزے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ جراثیم بھی مزے میں فرق کا باعث بنتے ہیں۔آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سیب کو مزے دار بنانے میں بھی جراثیم حصہ ڈالتے ہیں ورنہ ہم میں سے کئی تو اسے ہاتھ بھی نہ لگاتے ۔ ایک سیب پر یہ جراثیم کھربوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں اچھی طرح دھونے کے باوجود بھی آپ 10کروڑ جراثیم تو کھا ہی جاتے ہوں گے۔ اب ہم اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ یہ جو کروڑوں بیکٹیریا ہم روزانہ پیٹ میں بھر رہے ہیں،یہ اچھے ہیں یا برے، ہمیں جینے دیں گے یا مارہی ڈالیں گے؟ ایک سائنس دان نے ازراہ مذاق کہا کہ پورا سیب کھانے والوں کو وقت کا سکندر ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ اچھے ہیں لیکن ان کا دار و مدار اس بات پر بھی ہے کہ پھل کس قسم کی زمین پر کن مداخل کی مدد سے اگائے گئے ہیں۔ پھر سائنس دان نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیب کا رنگ اور لذت ابھارتے ہیں۔ پھپھوندی بھی انہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اسی لئے سیب منٹوں میںگل سڑ جاتا ہے۔ یہ خود بھی پھپھوندی کے ’’خاندان ‘‘سے تعلق رکھتے ہیں۔ سٹور میں رکھے ہوئے سیبوں کا موازنہ تازہ سیب سے کرنے پر پتہ چلا کہ سٹور میں رکھے گئے سیبوں میںجراثیموں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ فرنٹیئر اِن بائیولوجی نامی جریدے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق نامیاتی خوراک میں صحت بخش بیکٹیریا زیادہ تعدادمیں جنم لیتے ہیںاس لئے وہ زیاہ محفوظ ہے۔ بیکٹیریا، فنگی اور دوسرے وائرس ہمارے گَٹ (Gut) میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ ا ن کی پسندیدہ جگہ ہے۔ آسٹریاکی گراز یونیورسٹی کے پروفیسر گبریل برگ کی تحقیق کے مطابق ہمارے گَٹ کو بھی جراثیموں کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے بغیر کئی عمل پورے نہیں ہوتے۔ کچھ تو نظام ہاضمہ میں مددکرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بہت زیادہ پکانے سے جراثیم مر جاتے ہیں۔ ایسے جیسے ایٹم بم گرا دیا گیا ہو۔ سٹرابری کون کون دل چسپی سے کھاتا ہے؟ اس سلسلے میں ایک اور تحقیق کی سربراہی Birgit Wasserman نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ بیکٹیریا کی ایک خاص قسم کو Methylobacterium کہا جاتا ہے۔اس کے بغیر اچھی سٹرابری پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔یہ سٹرابری میں Boisynthesis نامی حیاتیاتی عمل جاری و ساری رکھتے ہیں ۔اس کے بغیر سٹرابری بن ہی نہیں سکتی۔ جراثیموں کی یہ نسل اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے۔ یہی جراثیم سٹرابری سے کہیں زیادہ تعداد میں سیب میں پائے جاتے ہیں۔ چھلکے اور گودے میں خاص طور پر موجود ہوتے ہیں۔ چھلکے کے اوپر ہی ہونے کی وجہ سے ایک حصے کو ہم دھو کر صاف کرتے ہیں مگر گودے میں موجود ہونے والے جراثیم پیٹ کی زینت بنتے ہیں۔ یہ بیج تنے(Stem)یا کیلی (Calyx) میں اتنی تعداد میںنہیں ہوتے۔ صحت کے حوالے سے نامیاتی فوڈ کو روایتی فوڈ پر ہر لحاظ سے فوقیت حاصل ہے۔ ان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ براہ راست کھیتوں سے آنے والے پھل اور سبزیاں سب سے زیادہ محفوظ ہوتی ہیں اس کے بعد انہیں جتنی جلدی کھا لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے، تاخیر سے جراثیموں کو پھلنے پھولنے کا وقت مل جاتا ہے ۔ سٹور میں رکھے جانے والے بعض پھل اسی لئے خراب بھی ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے اندر جراثیم جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2018ء میں دنیا بھر میں8.30 کروڑ سیب پیدا ہوئے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?