ہم اور ہمارے بھکاری تحریر : محمد ندیم بھٹی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,720
5,726
1,313
Lahore,Pakistan
ہم اور ہمارے بھکاری تحریر : محمد ندیم بھٹی
115467


ہم سرمایہ دارانہ دور سے گز ررہے ہیں، یہی سرمایہ دراصل جمہوریت کی بنیاد ہے۔ کہتے ہیں کہ جمہوریت ’’ون مین ون ووٹ‘‘ پر استوار ہوتی ہے مگر نہیں حقیقتاََ اس کے پیچھے اربوں روپے کی سرمایہ کاری پنہاں ہوتی ہے جوبعد میںاپنے سرمائے کا بدلہ مانگتی ہے۔ یہ بدلہ پالیسیوں کو نظرانداز کرنے کی صورت میں مل جاتا ہے جس سے معاشرے میں غربت اور بے روز گا ری پیدا ہوتی ہے جس کا لازمی نتیجہ بھوک و ننگ کی صورت میں نکلتا ہے۔جمہوری ممالک سمیت دنیا بھر میں1.60ارب افرادکو جینے کے لئے بہتر رہائشی سہولتیں دستیاب نہیں ۔ پاکستان میں بھی ایک کروڑ مکانوں کی شدید کمی ہے۔دو کروڑ افراد بے گھر ہیں، پاکستان میں بھی لاکھوں افراد کو مناسب رہائشی سہولت میسر نہیں۔غربت کسی کو پسند نہیں ہوتی یہ معاشی اور سماجی نظاموں کے ذریعے سے شہریوں کو منتقل ہوتی ہے۔



جمہوریت ہی معاشی انصافیوں کے ذریعے ایک طبقہ پیدا کرتی ہے جسے بھکاری کہا جاتا ہے ، یہ بھکاری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (جمہوریت ہی معاشی انصافیوں کے ذریعے ایک طبقہ پیدا کرتی ہے جسے بھکاری کہا جاتا ہے ، یہ بھکاری دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت (بھارت)میں سب سے زیادہ ہیں۔ کوئی چار لاکھ کے لگ بھگ۔ان میں سے زیادہ تر ان علاقوں میں ہیں جنہیں بھارت نے ماضی میں ترقی دینے کے لئے یونین کا درجہ دیا تھا جیسا کہ اب مقبوضہ کشمیر کو دیا جا چکا ہے جس پر دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں ۔ماضی میں یونین بنائی جانے والی ٹیریٹریز میں سے اب کچھ ریاست کا درجہ پاچکی ہیں مگر ماضی کی سماجی ناانصافیوں کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا۔مغربی بنگال میں81ہزار،اتر پردیش میں 66ہزار، آندھرا پردیش میں 30 ہزار اور مدھیہ پردیش میں29ہزار بھکاری ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی طرح بھکاری دنیا کی سب سے اچھی جمہوریت( امریکہ) میں بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر ہے،متعدد افراد قانون کے منگتے بنا دیئے۔ کسی قانون کی شکنی پرتمام جائیداد چھین لی گئی ،اور وہ سڑک پر آگئے۔ حکومت انہیں وظیفہ بھی دینا چاہتی ہے مگرشرط یہ ہے کہ وظیفے کی رقم سے مشروب نوشی نہیں کی جاسکتی۔ مشروب پینے کی علت نے انہیں سڑک پر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔آپ بھکاریوں کو بھکاری ہی نہ سمجھیں، وہ آپ سے بھی زیادہ امیر ہوسکتے ہیں۔سندھ میں ایک بھکاری کے پاس کئی درجن لاکھ روپے ہیں ۔صرف ممبئی میں’’بھکاری انڈسٹری ‘‘تین ارب روپے کی ہے۔پٹنہ کا ایک فقیر دو کروڑ روپے کی جائیداد کا مالک ہے۔وہاں بھارت جین،کرشنا کمار،سرویتا دیوی،لکشمی داس ،سام بھاجی کیل ٹیڈ ولیمیز کو لکھ پتی بھکاری مانا جاتا ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق غربت اور معاشی نا انصافی کے ماحول میں سب سے پہلے جو چیز نشانہ بنتی ہے وہ ضمیر اورخودی کے سواکچھ اور نہیں ہوتی۔نوبل انعام یافرتہ سماجی ماہر (Angus Deaton) عدم مساوات دراصل نانصافی کا ہی نتیجہ ہوتی ہے جس سے معاشرتی قدریں کمزور پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہیرلڈ جیمز کہتے ہیں کہ ہم اب تک ناانصافی اور عدم مساوات کو سمجھ ہی نہیںسکے۔ غربت اور بھیک اسی کی پیدا کی پیدا کردہ لعنتیںہیں۔ نوبل انعام یافتہ معاشی ماہرمائیکل پنس نے غربت اور بھیک کے تانے بانے کارپوریٹ سیکٹر سے جوڑ دیئے ہیں۔ ان کے خیال میں کارپوریٹ سیکٹر چاہے تو وہ سٹا ک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو بہتر بنا کے اچھا روزگار مہیا کرنے کا بندوبست کر سکتا ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطرکچھ لوگ سب سے پہلے اپنے ضمیر کا قتل کرتے ہیں اور پھر بھیک کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں ،ایک بار جب ضمیر مردہ ہو جائے تو پھر کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر میں یہ کہوں کہ تمام فقیر اصل میں پالیسی سازوں کے لئے لمحہ فکریہ ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے ملتان کے شوکت بھکاری کا ذکر کروں گا۔جس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ،

’’میں اللہ تعالیٰ کے پاک نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت ہی رحم کرنے والے ہیں۔میں میر اپور میں رہتا ہوں ،جو شاہ جمال کے بہت ہی نزدیک ہے،میراکام ہے بھیک مانگنا،میں روز کا ایک ہزار روپیہ ملتان میں کما لیتا ہوں۔ 30دنوں کے بعد30ہزار کما لیتا ہوں۔ میں شوکت بھکاری تیل،سی ین جی اورڈیزل پر پیسے ضائع نہیں کرتا ۔ میں ایک روپیہ مانگتا ہوں۔ ایک آدمی نے کہا کہ’ شوکت بھکاری تیری ایک روپے کی کیا فلم ہے، لوگ تو پچاس روپے مانگتے ہیں۔‘۔میں نے کہا کہ میں ایک روپیہ مانگتا ہوں، ایک روپیہ کسی کی جیب میں نہیں ہوتا تب وہ مجھے دس یا بیس روپے دے دیتے ہیں۔روز کا ایک ہزار روپیہ بینک میں جمع ہو رہا ہے۔ میں دس لاکھ دس ہزار روپے کا مالک ہوں ۔آج کی رسیددکھاتا ہوں۔ روٹی فری ہے۔ میرے پاس چار ہوٹل ہیں جو مجھے مفت کھلاتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے قطرے سے دریا بنتاہے۔میں نے نوکری کے لئے ایم این اے، ایم پی کو درخواست دی۔ کچھ نہیں ہوا۔ اب میں سڑک کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ اب میں خوب کماتا ہوں۔میں نے بھاشا دیامیر ڈیم میں دس ہزار روپے چندہ دیا ہے‘‘۔

بھیک مانگنے میں اب اسے کوئی کراہت،کوئی بے چینی ، ہچکچاہٹ ،کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔ اس کی روح بھی چھلنی نہیں ہوتی۔ وہ ان تمام مرحلوں سے گزر چکا ہے۔ایک وقت تھا جب پیسہ مانگتے ، کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہی اسے جسم میں خنجرکی سی چبھن محسو س ہوتی ہوگی ،اب نہیں ہوتی، شائد وہ صرف پیسہ جوڑنے میںمصروف ہے جو اس کے کسی کام نہیں آ رہا۔ لاکھوں روپیہ بینک ڈیپازٹ میں پڑاہے جو بینکوں سے بزنس کرنے والے سیٹھوںکے کام آرہا ہے یعنی ہاتھ پھیلا کر لاکھوں روپے کا کمانے والابھکاری بینکاری نظام کے ذریعے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ ٹیکس پیئر بھی ہے۔بینک اس کا ٹیکس کاٹ کروفاقی خزانے میں جمع کرا رہا ہے۔

اس کام میں وہ اکیلا نہیں۔ ہمیں ہر سڑک پر ہر جگہ بھکاریوں کی فوج ظفر موج دکھائی دے گی۔ ان میں سے کم ہی بھکاری شوکت کی طرح آزاد اور خود مختار ہیں ورنہ سب کسی نہ کسی کے ایجنٹ ہیں۔کچھ طاقت ور افراد کے نزدیک بھیک بہت بڑا بزنس ہے،جسے وہ گزشتہ کئی عشروں سے چلا رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہیں اغوا کر کے دوسرے شہروں میں غیر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔چند سال پہلے کی بات ہے، ایک بوڑھی عورت نے دوسری عورت کے سامنے ہاتھ پھیلایا تو دونوں ہی کی چیخیں نکل گئیں۔ ماں بیٹی سے بھیک مانگ رہی تھی۔اس ماں کو ایک بازار میں سے بردہ فروشوں کے گروہ نے اغوا کر کے سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیاتھا۔ گروہ کا خیال تھا کہ عورت خوش شکل بھی ہے اور مجبور بھی لگتی ہے۔خوب پیسہ ملے گا۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظورتھا ۔ماں بھکارن کے روپ میں بیٹی کے سامنے آئی تو اسے کئی برس بعد بچھڑے ہوئے اپنے دوبارہ مل گئے۔وہ بردہ فروش گروہ کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ہماری ایک ملنے والی نے بتایا کہ ایک وکیل کا بیٹا نویں جماعت کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا،وہ گھر کے لان میں ٹہل رہا تھا،جب پڑھتے پڑھتے وہ کمرے کے قریب آتا تو ماں کے کان میں بیٹے کی آواز پڑتی، اسے سکون ملتا کہ بیٹا با آواز بلند پڑھ رہا ہے،اچھے نمبر آ جائیں گے۔ایک دعا اس کے ہونٹوں پہ آتی اور وہ دوبارہ کام میں مگن ہو جاتی۔ آخر گھر کے کام بھی تو ختم کرنے تھے۔ کام کرتے کرتے اچانک ماں کا دھیان بیٹے کی جانب گیا جس کی کوئی آواز اس کے کان میں نہیں آئی تھی۔ اس نے لان کی طرف جھانکا تو وہاں کسی کو نہ پا کر ہوش اڑ گئے۔فوراََ ہی اس کے باپ کو اطلاع دی۔ دونوں نے مل کر علاقے کا کونا کونا چھان مارا مگر بیٹے کا کچھ پتہ نہ چلا۔ چند دن اسی طرح گزر گئے۔ ایک روزکراچی سے کسی نے خوفزدہ آواز میں فون کیا کہ آپ کے بیٹے کا نام سلیم ہے۔انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ،ہاں۔۔یہی نام ہے۔ ’’آپ کو آپ کا بیٹا مل جائے گا ، کسی سے کوئی بات نہیں کرنی ،کوئی پولیس ایکشن نہ کیجئے گا ،اگر آپ نے کسی قسم کی کارروائی کی تو ہم سب مارے جائیں گے۔آپ مجھے کراچی آکر فون کیجئے گا‘‘یہ کہہ کر فون بند ہو گیا۔وہ اسی روزجہاز کا ٹکٹ لے کر کراچی پہنچ گئے۔اور ایک جگہ سے دیئے گئے نمبر پہ فون ملایا۔دوسرے صاحب نے انہیں وہیں رکنے کا کہا اورپھر اس کے بیٹے کو لے کو وہاں پہنچ گئے ۔وکیل صاحب اپنا بیٹا لے کر لاہور پہنچ گے ،یوںایک بچے کے اغوا کی کہانی خوف و دہشت میں کہیں کھو گئی ۔کئی روز تک بیٹا خاموش رہا اس کی آواز گنگ ہو گئی تھی۔جب اوسان بحال ہوئے تو کہنے لگا کہ’’میں لان میں پڑھ رہا تھا ،میں نے جونہیںرخ کمرے کی جانب کیا تو اچانک کسی نے پیچھے سے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، چند لمحوں میں میں بے ہوش ہو گیا، پھر مجھے نہیں پتہ چلا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ جب ہوش آیا تو ایک بند جگہ پر تھا۔ جیسے کوئی بیسمنٹ ہو۔بیسمنٹ میں اوپر کی جانب چند ایک کھڑکیاں سی بنی ہوئی تھیں ۔ جن سے ہوا کہیں کمر ے کے اندرسے ہو کر آ رہی تھی کیونکہ یہ روشن دان گھر کے اندر ہی کہیں کھلتے تھے۔ سڑک پر جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔وہاں میرے جیسے کئی اور بچے بھی قید تھے ۔ شائدیہ بردہ فروشوں کا مرکزی ٹھکانہ تھا۔ سامنے ایک چگھوٹا بازار سا تھا۔ بردہ فروش اپنے قیدی بچوں کو کبھی کبھی باہر سے چائے لانے کے لئے بھج دیتے تھے۔ میں خود کواس وقت کے لئے تیار کر رہا تھا جب وہ مجھے چائے لانے کے لئے بھیجیں، اس کا ایک ہی طریقہ سجھائی دیا۔ بے وقوف بن جائوں اور جیسے وہ کہیںکرتا جائوں۔کچھ دن اسی طرح گزر گئے۔ اندازہ نہیں ہوا کہ کتنے دن گزرے ہیں ۔کبھی روشن دان کھلے ہوتے تھے تو کبھی بند ہو جاتے تھے۔ پھر وہ دن بھی آ گیا جب ان میں سے ایک نے مجھے چائے لانے کے لئے بھیجا۔میں باہر آیا،ذراادھر ادھر دیکھا اور پوری رفتار سے بھاگتا ہوا ایک گھر میں گھس گیا۔ جلدی سے انہیں اپنی بپتا سنائی، ساتھ ہی ان کے پیروں پہ گرگیا۔انہوں نے تیزی سے مجھے اٹھایا اور گھر کے اندر بھاگے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں ۔میں نے جیسے انہیں بہت بڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا ۔ یہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ میرے لئے اپنی جان پر کھیل گئے تھے‘‘۔’انہوں نے سٹور میں مجھے لٹا دیا، اور ہدایت دی کہ سانس بھی آہستہ لوں، کسی کی آواز پر کوئی رد عمل ظاہر نہ کروں، جب تک وہ مخصوص الفاظ نہ بولیں میںان کی آواز پر بھی حرکت نہ کروں،بے سدھ پڑا رہوںورنہ ہم سب موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ میرے وہاں آتے ہی چند منٹوں میں ہی علاقے میں شور مچ گیا۔۔۔۔’میرا بیٹا اغوا ہو گیا میرا بیٹا اغوا ہو گیا۔۔‘یہ کہتے ہوئے ان بردہ فروشوں نے گھر گھر تلاشی لینا شروع کر دی،جہاں میں چھپا تھا وہاں بھی آئے ، میں ساکت پڑا رہا۔اس عمل میں کافی دیر ہو گئی۔اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ علاقے میں ان کی کس قدر دہشت ہے۔ بردہ فروشوں کے جاتے ہی انہوں نے والد کو فون کیا اور یوں میں اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے‘‘۔ان لوگوں کا نیٹ ورک قانون کی گرفت سے بالاتر ہے۔ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی ان کا عمل دخل ہے،جس سے نقل حمل میں آسانی ہو تی ہے۔ یہ بچے فروخت بھی کرتے ہیں اور ان سے بھیک بھی منگواتے ہیں۔یہ اپنے اپنے بھکاریوں کو خفیہ طریقے سے کاروں، موٹر سائیکلوں پر علی الصبح چھوڑ جاتے ہیں۔یا خود پہنچ جاتے ہیں۔ شاہ عالم بازار ، اعظم کلاتھ مارکیٹ، اردو بازار،مال روڈ ، گلبرگ ،جوہر ٹائون بھکاریوں کے بڑے مرکز ہیں ۔بھکاریوں کی دوسری قسم وہ ہے جو اپنی مرضی سے بھیک مانگتی ہے ۔جب انسان کے اندر کا آدمی مر جاتا ہے تو وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتا۔انہیں ہر کام کا فن آتا ہے یہ ہم سب کی نفسیات سے بھی کھیلتے ہیں۔

دوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے سے پہلے آدمی کو اپنی انا کا خون کرنا پڑتا ہے، اپنے اندر کے انسان کو مارنا پڑتا ہے،اس کے بغیر ہاتھ پھیلانے کی جرات ہی نہیں ہو سکتی۔آساں نہیں انسان سے بھکاری بننا۔ ایسا ایک بار ہو جائے تو یہ عادت بن جاتی ہے۔یہ ذہنیت اورمائنڈ سیٹ ہے۔جسے بدلا نہیں جا سکتا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو خواہ مخواہ مانگنے کی عادت ہوتی ہے،یہ تبدیل نہیں کی جاسکتی۔مجھے ایک ماہر نفسیات نے بتایا کہ ’’انہیںکئی لوگ ایسے ملتے ہیں جنہوں نے مانگنے تانگنے کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔یہ ان کی پسند ہے مجبوری نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مانگنے میں برائی ہی کیا ہے ۔اس کے حق میں اوہ ایسی ایسی دلیلیں دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ کے نیچے کر لیا ہے، ہم چوری ڈاکہ تو نہیں مار رہے ، مرضی ہو تو دو، وورنہ کوئی بات نہیں۔ہر شہر اور ہر گائوں میں جگہ جگہ بھکاری ہمیں اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ان کے وجود کو ختم کرنا مشکل ہے ۔ ان کے ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا مشکل تر ہے ۔صوبوں میںانسداد بھیک آرڈیننس نافذ ہیں مگر حکومت اس آرڈیننس پر عمل درآمد کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ اس کے لئے اسے قوانین پر عمل درآمد کروانا ہوگا، مختلف صنعتی شعبوں میں بننے والے کارٹل ختم کرنا ہوں گے، سماجی انصاف لانا ہوگا۔ یہ کام کسی بھی حکومت کے لئے آسان نہیں ۔لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اس لعنت سے کبھی چھٹکارا نہیں پا سکتے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?