History {۶۶۰} زلزلہ کا دینی پہلو

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
3,023
2,110
513
116484
{۶۶۰} زلزلہ کا دینی پہلو

سوال: زلزلہ کے بارے میں دینی نقطۂ نظر بتانے کی مہربانی فرمائیں ، زلزلہ کس لئے ہوتا ہے؟ کیا مبارک زمانہ میں زلزلہ ہوا تھا؟حدیث شریف میں اس بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ اسی طرح اس وقت کونسا عمل کرنا چاہئے؟ کتاب و سنت کے حوالہ کے ساتھ جواب بتا کر ہم جاہلوں کو اس مسئلہ سے آگاہ فرمائیں ۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً… خالق کائنات انسانوں کی تمام ضرورتوں کو پوری کرتا ہے، اور اللہ کی مفت میں دی ہوئی انمول نعمتوں سے انسان اپنی زندگی گزارتا ہے تو ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے عظیم خدا کے احکام کی اطاعت کر کے اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ،لیکن بہت سے لوگ اس کے احکام کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہیں ، جب نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ڈرانے کے لئے کوئی مصیبت یا تکلیف میں مسلط کر دیا جاتا ہے تاکہ انسان پھر راہ راست پر آ جائے، کچھ حد تک زلزلہ کابھی یہی سبب ہے۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں لکھتے ہیں کہ جب علی الاعلان اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہونے لگے اور لوگوں میں سے اللہ کا خوف ختم ہو رہا ہو تب ان میں زلزلے ہوتے ہیں تاکہ اللہ کا ڈر اور احکام کی اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ (عمدۃ القاری: ۳؍۴۶۳)
قرآن شریف میں ہے کہ : و ما نرسل بالآیت الا تخویفا۔ (الاسراء: ۵۹)۔ترجمہ: ہم یہ نشانیاں ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ چانداورسورج بھی اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان میں گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا،

البتہ اللہ تعالی اس سے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں ۔ (بخاری شریف: ۱؍۱۴۳)۔
حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانۂ خلافت میں مدینہ منورہ میں زلزلہ کا دھکا لگا تو حضرت عمرؓ نے اہل مدینہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: کہ : مدینہ والوں !تم نے کوئی نیا گناہ کیا ہے کہ جس سے یہ زلزلہ آیا ہے؟ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد اگر زلزلہ آیا تو میں دوسری جگہ چلا جاؤں گا، تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا۔ (عینی: ۳)
صحابہ ؓ میں اور ہم میں اصل فرق یہی ہے کہ وہ کسی بھی مصیبت کو اپنے اعمال کا بدلہ اور اللہ کی ناراضگی کا سبب سمجھتے تھے، اور ہم ہر وقت گناہوں میں مشغول رہنے کے باوجود اپنے گناہوں کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتے ۔
ایک شخص حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے زلزلہ کے بارے میں کچھ بتائیں ، تو حضرت عائشہؓ نے کہا کہ جب لوگ زنا کو مباح فعل کی طرح کرنے لگیں ، شراب پینے لگیں ، ڈھول ، تاشے بجانے لگیں تو اس وقت اللہ تعالی کا غضب بڑھ جاتا ہے، اوراللہ تعالی زمین کو حکم کرتا ہے کہ انہیں ذرا ہلا ڈال، اگر وہ توبہ کر کے ٹھیک ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کی نافرمانی کے سبب وہ اس کے سزاوار ہیں کہ ان پر عمارتیں گرا کر انہیں دبا دیا جائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ ہم میں نیک لوگوں کے موجود ہوتے ہوئے ہم ہلاک کئے جائیں گے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا :کہ ہاں ! جب برائیاں بڑھ جائیں گی لیکن نیکوں کے لئے (اس طرح مرنا بھی) رحمت کے طور پر ہوگا۔ (مسلم شریف: ۳۸۸)۔
دوسری ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ : انہوں نے نبیٔ کریم

ﷺسے پوچھا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں پر اس حالت میں آ جائے کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں تو کیا نیک لوگوں کو اس سے کوئی نقصان پہنچے گا؟تو حضور ﷺ نے جواب دیا کہ دنیا میں تو سب کو اثر پہنچے گا، لیکن آخرت میں وہ لوگ گنہگاروں سے الگ ہو جائیں گے۔
.4دوسرا ایک مطلب تیسری حدیث سے سمجھا جا سکتا ہے کہ.4: .4حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ.4: .4حضور ﷺ نے فرمایا کہ.4: .4میری یہ امت امت مرحومہ ہے، ان پر آخرت میں (بہت سخت) عذاب نہ ہوگا لیکن دنیا ہی میں تکالیف اورفتنے زلزلے، قتل و غارت گری اور لوٹ مار وغیرہ سے ان کے گناہوں کا بدلہ ادا کر دیا جائے گا۔(ابو داؤد، مشکوۃ شریف.4: .4۴۶۰.4، .4۵۴۴.4)۔
نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ : جب میری امت ۱۵؍ کام کرنے لگیں گی تو ان پر مصیبتیں اترنے لگیں گی:
(۱)مال غنیمت ذاتی ملکیت بن جائے(۲) امانت ایسی ہو جائے جیسے کہ غنیمت کا مال (۳) زکاۃ ادا کرنا مصیبت یا بوجھ بن جائے(۴) عورت کی تابعداری کی جانے لگے(۵) ماں کی نافرمانی ہونے لگے(۶) دوستوں کے ساتھ اچھا تعلق رکھنا(۷)اور باپ کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرنا(۸) مسجد وں میں شور و شغف کرنا(۹) ذلیل لوگ قوم کے حاکم بن جائیں (۱۰) انسان کا اعزاز و اکرام اس کی شرارت سے بچنے کے لئے کیا جائے(۱۱) علی الاعلان شراب پی جانے لگے(۱۲) مغنیہ ،فاحشہ اور آلات موسیقی کا کثرت سے استعمال ہونے لگے (۱۳) مرد ریشمی کپڑا پہننے لگے(۱۴)سابقین اولین (صحابہ، تابعین، مجاہدین وغیرہ) کو برا بھلا کہا جائے(۱۵)
تو امت کے لوگ اس وقت تیزآندھیوں اور زلزلے اور زمین میں دھنسا دئے جانے اور

چہرے مسخ کر دئے جانے کااور آسمان سے آفتوں کی بارش کا انتظار کریں ۔
ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ : دین کا علم دنیا کمانے کے لئے سیکھا جائے اور باقی مذکورہ بالا چیزیں گنا کر کہا کہ اس وقت تیز آندھی، زلزلے اور زمین میں دھنسا دئیے جانے اور مسخ صور اور آسمان سے آفتوں کی بارش کا انتظار کریں ۔ (۲؍۴۴ ) ۔ اورمجمع الزوائد کی حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ کم عمر بچے ممبر پر وعظ کہنے لگیں ۔
حضور اقدس ﷺ کا فرمان مد نظر رکھ کر ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ مذکورہ چیزیں کتنی عام اور رائج ہیں ، اس لئے برائیوں سے بچنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
جب کوئی شخص گناہ اکیلا اور تنہائی میں کرتا ہے تواس گناہ کی سزا اور برائی اسی تک محدود رہتی ہے، لیکن جب وہ گناہ سرے عام اور کھلم کھلا ہونے لگے اور قدرت کے باوجود کوئی اسے نہ روکے تو پھر اس کی وباء اور سزا بھی سب کو ملتی ہے۔ آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے حضور ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کی خبر دی تھی اس میں زلزلوں کا کثرت سے ہونا ایک پیشین گوئی کے طور پر بتایا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ : جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے، اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے اور وقت میں برکت نہ رہے اور فتنوں کی کثرت نہ ہو جائے اور گناہ بہت ہونے نہ لگیں ، تب تک قیامت نہیں آئے گی۔ (بخاری شریف) ۔
دوسری ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میری امت کے لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پینے لگیں گے اور ناچ گانے اور آلات موسیقی میں مشغول ہو جائیں گے تو اللہ تعالی انہیں زمین میں غرق کر دیں گے، اور بعضوں کو ان میں سے بندر اور خنزیر بنا دیں گے۔ (ابن ماجہ شریف: ۳۰۰)۔

پارۂ عم کی سورۂ زلزال سے معلوم ہوتا ہے کہ: قرب قیامت جو زلزلے ہوں گے وہ بہت ہی سخت ہوں گے ۔اس لئے ایسے سخت عذاب سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا اور اللہ کی خوشنودی والے کام مثلاً: نماز، توبہ، صدقہ اور مصیبت سے بچنے کی دعا میں مشغول ہونا چاہئے۔ اور جو مصیبت میں مبتلاء نہیں ہوئے انہیں بھی اطمینان سے نہ بیٹھتے ہوئے وہ بچ گئے اس پر اللہ کا شکر ادا کر کے اپنے برے اعمال سے توبہ کر کے مصیبت میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔
در مختار اور شامی جلد: اول میں لکھا ہے کہ : چاند گرہن ہو یا سخت آندھی چلے یا دن میں سخت اندھیرا چھا جائے یا رات کو تیز روشنی ہو جائے یا زلزلے ہونے لگیں تو اپنے اپنے گھروں میں تنہا نفلیں پڑھنی چاہئے یا صرف دعائیں مانگیں ، البتہ فتاویٰ سراجیہ کے ایک فتوے کے مطابق نفلوں میں مشغول ہونا بہتر ہے۔ (۱۲۷)۔
حضور ﷺ کا یہی طریقہ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی دل ہلا دینے والی بات پیش آتی تو حضور ﷺ نفلوں میں مشغول ہو جاتے۔
علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری ۲؍۲۹۱ میں لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے لئے بہتر یہ ہے کہ زلزلے، سخت بجلی اور تیز آندھی کے وقت عاجزی اور دل سے دعا مانگے، اور تنہا نفلیں پڑھے تاکہ غافلوں میں اس کا شمار نہ ہو، اس لئے کہ حضرت عمرؓ نے زلزلہ کے وقت لوگوں کو نفلیں پڑھنے کی ترغیب دلائی تھی، اور آگے لکھتے ہیں :کہ زلزلے کے وقت گھر سے باہر نکل کر میدان کی طرف نکل جانا جائز ہے بلکہ بہتر ہے۔
سائنس داں زلزلے کے جوا سباب بتاتے ہیں مثلاً: پتھر ، پہاڑ وغیرہ کاہٹنا وغیرہ، اسلام اس سے بھی ایک قدم آگے ان اسباب کا بھی سبب بتاتا ہے اس لئے ان کی تحقیق اسلامی

تعلیمات کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہماری نافرمانیوں ، گناہوں کو معاف فرماوے، اور ہر انسان کو ہدایت نصیب فرما کر ہر مصیبت ، پریشانی اور اپنی ناراضگی سے بچا ئے، اور اس کے پاک رسول اللہ ﷺ کی مکمل تابعداری نصیب کرے۔ آمین۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
فتاوی دینیہ
 
  • Like
Reactions: Angela

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
2,692
2,814
213
~Dasht e Tanhaayi~
{۶۶۰} زلزلہ کا دینی پہلو

سوال: زلزلہ کے بارے میں دینی نقطۂ نظر بتانے کی مہربانی فرمائیں ، زلزلہ کس لئے ہوتا ہے؟ کیا مبارک زمانہ میں زلزلہ ہوا تھا؟حدیث شریف میں اس بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ اسی طرح اس وقت کونسا عمل کرنا چاہئے؟ کتاب و سنت کے حوالہ کے ساتھ جواب بتا کر ہم جاہلوں کو اس مسئلہ سے آگاہ فرمائیں ۔
الجواب:حامداً و مصلیاً و مسلماً… خالق کائنات انسانوں کی تمام ضرورتوں کو پوری کرتا ہے، اور اللہ کی مفت میں دی ہوئی انمول نعمتوں سے انسان اپنی زندگی گزارتا ہے تو ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے عظیم خدا کے احکام کی اطاعت کر کے اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرے ،لیکن بہت سے لوگ اس کے احکام کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہیں ، جب نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ڈرانے کے لئے کوئی مصیبت یا تکلیف میں مسلط کر دیا جاتا ہے تاکہ انسان پھر راہ راست پر آ جائے، کچھ حد تک زلزلہ کابھی یہی سبب ہے۔
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری میں لکھتے ہیں کہ جب علی الاعلان اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہونے لگے اور لوگوں میں سے اللہ کا خوف ختم ہو رہا ہو تب ان میں زلزلے ہوتے ہیں تاکہ اللہ کا ڈر اور احکام کی اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ (عمدۃ القاری: ۳؍۴۶۳)
قرآن شریف میں ہے کہ : و ما نرسل بالآیت الا تخویفا۔ (الاسراء: ۵۹)۔ترجمہ: ہم یہ نشانیاں ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ چانداورسورج بھی اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان میں گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا،

البتہ اللہ تعالی اس سے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں ۔ (بخاری شریف: ۱؍۱۴۳)۔
حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانۂ خلافت میں مدینہ منورہ میں زلزلہ کا دھکا لگا تو حضرت عمرؓ نے اہل مدینہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: کہ : مدینہ والوں !تم نے کوئی نیا گناہ کیا ہے کہ جس سے یہ زلزلہ آیا ہے؟ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد اگر زلزلہ آیا تو میں دوسری جگہ چلا جاؤں گا، تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا۔ (عینی: ۳)
صحابہ ؓ میں اور ہم میں اصل فرق یہی ہے کہ وہ کسی بھی مصیبت کو اپنے اعمال کا بدلہ اور اللہ کی ناراضگی کا سبب سمجھتے تھے، اور ہم ہر وقت گناہوں میں مشغول رہنے کے باوجود اپنے گناہوں کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں دیتے ۔
ایک شخص حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے زلزلہ کے بارے میں کچھ بتائیں ، تو حضرت عائشہؓ نے کہا کہ جب لوگ زنا کو مباح فعل کی طرح کرنے لگیں ، شراب پینے لگیں ، ڈھول ، تاشے بجانے لگیں تو اس وقت اللہ تعالی کا غضب بڑھ جاتا ہے، اوراللہ تعالی زمین کو حکم کرتا ہے کہ انہیں ذرا ہلا ڈال، اگر وہ توبہ کر کے ٹھیک ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کی نافرمانی کے سبب وہ اس کے سزاوار ہیں کہ ان پر عمارتیں گرا کر انہیں دبا دیا جائے۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ ہم میں نیک لوگوں کے موجود ہوتے ہوئے ہم ہلاک کئے جائیں گے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا :کہ ہاں ! جب برائیاں بڑھ جائیں گی لیکن نیکوں کے لئے (اس طرح مرنا بھی) رحمت کے طور پر ہوگا۔ (مسلم شریف: ۳۸۸)۔
دوسری ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ : انہوں نے نبیٔ کریم

ﷺسے پوچھا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں پر اس حالت میں آ جائے کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں تو کیا نیک لوگوں کو اس سے کوئی نقصان پہنچے گا؟تو حضور ﷺ نے جواب دیا کہ دنیا میں تو سب کو اثر پہنچے گا، لیکن آخرت میں وہ لوگ گنہگاروں سے الگ ہو جائیں گے۔
.4دوسرا ایک مطلب تیسری حدیث سے سمجھا جا سکتا ہے کہ.4: .4حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ.4: .4حضور ﷺ نے فرمایا کہ.4: .4میری یہ امت امت مرحومہ ہے، ان پر آخرت میں (بہت سخت) عذاب نہ ہوگا لیکن دنیا ہی میں تکالیف اورفتنے زلزلے، قتل و غارت گری اور لوٹ مار وغیرہ سے ان کے گناہوں کا بدلہ ادا کر دیا جائے گا۔(ابو داؤد، مشکوۃ شریف.4: .4۴۶۰.4، .4۵۴۴.4)۔
نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ : جب میری امت ۱۵؍ کام کرنے لگیں گی تو ان پر مصیبتیں اترنے لگیں گی:
(۱)مال غنیمت ذاتی ملکیت بن جائے(۲) امانت ایسی ہو جائے جیسے کہ غنیمت کا مال (۳) زکاۃ ادا کرنا مصیبت یا بوجھ بن جائے(۴) عورت کی تابعداری کی جانے لگے(۵) ماں کی نافرمانی ہونے لگے(۶) دوستوں کے ساتھ اچھا تعلق رکھنا(۷)اور باپ کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرنا(۸) مسجد وں میں شور و شغف کرنا(۹) ذلیل لوگ قوم کے حاکم بن جائیں (۱۰) انسان کا اعزاز و اکرام اس کی شرارت سے بچنے کے لئے کیا جائے(۱۱) علی الاعلان شراب پی جانے لگے(۱۲) مغنیہ ،فاحشہ اور آلات موسیقی کا کثرت سے استعمال ہونے لگے (۱۳) مرد ریشمی کپڑا پہننے لگے(۱۴)سابقین اولین (صحابہ، تابعین، مجاہدین وغیرہ) کو برا بھلا کہا جائے(۱۵)
تو امت کے لوگ اس وقت تیزآندھیوں اور زلزلے اور زمین میں دھنسا دئے جانے اور

چہرے مسخ کر دئے جانے کااور آسمان سے آفتوں کی بارش کا انتظار کریں ۔
ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ : دین کا علم دنیا کمانے کے لئے سیکھا جائے اور باقی مذکورہ بالا چیزیں گنا کر کہا کہ اس وقت تیز آندھی، زلزلے اور زمین میں دھنسا دئیے جانے اور مسخ صور اور آسمان سے آفتوں کی بارش کا انتظار کریں ۔ (۲؍۴۴ ) ۔ اورمجمع الزوائد کی حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ کم عمر بچے ممبر پر وعظ کہنے لگیں ۔
حضور اقدس ﷺ کا فرمان مد نظر رکھ کر ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ مذکورہ چیزیں کتنی عام اور رائج ہیں ، اس لئے برائیوں سے بچنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔
جب کوئی شخص گناہ اکیلا اور تنہائی میں کرتا ہے تواس گناہ کی سزا اور برائی اسی تک محدود رہتی ہے، لیکن جب وہ گناہ سرے عام اور کھلم کھلا ہونے لگے اور قدرت کے باوجود کوئی اسے نہ روکے تو پھر اس کی وباء اور سزا بھی سب کو ملتی ہے۔ آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے حضور ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کی خبر دی تھی اس میں زلزلوں کا کثرت سے ہونا ایک پیشین گوئی کے طور پر بتایا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ : جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے، اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے اور وقت میں برکت نہ رہے اور فتنوں کی کثرت نہ ہو جائے اور گناہ بہت ہونے نہ لگیں ، تب تک قیامت نہیں آئے گی۔ (بخاری شریف) ۔
دوسری ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میری امت کے لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پینے لگیں گے اور ناچ گانے اور آلات موسیقی میں مشغول ہو جائیں گے تو اللہ تعالی انہیں زمین میں غرق کر دیں گے، اور بعضوں کو ان میں سے بندر اور خنزیر بنا دیں گے۔ (ابن ماجہ شریف: ۳۰۰)۔

پارۂ عم کی سورۂ زلزال سے معلوم ہوتا ہے کہ: قرب قیامت جو زلزلے ہوں گے وہ بہت ہی سخت ہوں گے ۔اس لئے ایسے سخت عذاب سے بچنے کے لئے گناہوں سے بچنا اور اللہ کی خوشنودی والے کام مثلاً: نماز، توبہ، صدقہ اور مصیبت سے بچنے کی دعا میں مشغول ہونا چاہئے۔ اور جو مصیبت میں مبتلاء نہیں ہوئے انہیں بھی اطمینان سے نہ بیٹھتے ہوئے وہ بچ گئے اس پر اللہ کا شکر ادا کر کے اپنے برے اعمال سے توبہ کر کے مصیبت میں گرفتار لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔
در مختار اور شامی جلد: اول میں لکھا ہے کہ : چاند گرہن ہو یا سخت آندھی چلے یا دن میں سخت اندھیرا چھا جائے یا رات کو تیز روشنی ہو جائے یا زلزلے ہونے لگیں تو اپنے اپنے گھروں میں تنہا نفلیں پڑھنی چاہئے یا صرف دعائیں مانگیں ، البتہ فتاویٰ سراجیہ کے ایک فتوے کے مطابق نفلوں میں مشغول ہونا بہتر ہے۔ (۱۲۷)۔
حضور ﷺ کا یہی طریقہ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی دل ہلا دینے والی بات پیش آتی تو حضور ﷺ نفلوں میں مشغول ہو جاتے۔
علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری ۲؍۲۹۱ میں لکھتے ہیں کہ ہر شخص کے لئے بہتر یہ ہے کہ زلزلے، سخت بجلی اور تیز آندھی کے وقت عاجزی اور دل سے دعا مانگے، اور تنہا نفلیں پڑھے تاکہ غافلوں میں اس کا شمار نہ ہو، اس لئے کہ حضرت عمرؓ نے زلزلہ کے وقت لوگوں کو نفلیں پڑھنے کی ترغیب دلائی تھی، اور آگے لکھتے ہیں :کہ زلزلے کے وقت گھر سے باہر نکل کر میدان کی طرف نکل جانا جائز ہے بلکہ بہتر ہے۔
سائنس داں زلزلے کے جوا سباب بتاتے ہیں مثلاً: پتھر ، پہاڑ وغیرہ کاہٹنا وغیرہ، اسلام اس سے بھی ایک قدم آگے ان اسباب کا بھی سبب بتاتا ہے اس لئے ان کی تحقیق اسلامی

تعلیمات کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہماری نافرمانیوں ، گناہوں کو معاف فرماوے، اور ہر انسان کو ہدایت نصیب فرما کر ہر مصیبت ، پریشانی اور اپنی ناراضگی سے بچا ئے، اور اس کے پاک رسول اللہ ﷺ کی مکمل تابعداری نصیب کرے۔ آمین۔ فقط و اللہ تعالی اعلم
فتاوی دینیہ
JAZAKALLAH O KHAIRAN WA KASEERA...
 
  • Like
Reactions: ROHAAN
Top
Forgot your password?