Famous Writers and poet's BioGraphy!!

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
ہمارے بلوچستان میں بھی بہت بڑے بڑے شاعر ہیں
ان کو بھی اتنی شہرت نہیں ملی
آپ کا علم کافی اچھا ہے ہے
آپ بتا سکتے ہیں بلوچستان میں کس کس جگہ پہ شاعر ہیں
مطلب راءے دینی ہے
ان شاءاللہ
اگلی مرتبہ پلوچستان سے تعلق رکھنے والے شعراءکی سوانح حیات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا
 
  • Like
Reactions: maria_1 and Taha1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,210
5,531
213
ان شاءاللہ
اگلی مرتبہ پلوچستان سے تعلق رکھنے والے شعراءکی سوانح حیات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا
آپ کا مطلب بلوچی زبان میں شاعری کرنیوالے یا اردو بلوچ شاعر
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
ریاض الرحمان ساغر عمدہ گیت نگار اور بہت اچھے نظم گو تھے
115669

عبدالحفیظ ظفر

کچھ لوگوں کو قدرت نے بہت سی خوبیاں عطا کی ہوتی ہیں۔ ان کے فن کی بہت سی جہتیں ہوتی ہیں اور وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وطن عزیز میں ایسے بے شمار نام لیے جا سکتے ہیں جن میں سے ایک نام ہے ریاض الرحمان ساغر۔ یکم دسمبر 1941ء کو بٹھنڈا (بھارت) میں پیدا ہونے والے ریاض الرحمان ساغر شاعر بھی تھے اور فلمی گیت نگار بھی۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور کالم نویسی میں بھی نام کمایا۔ اس کے علاوہ ساغر صاحب نے مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے 2000 سے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔ اسی طرح انہوں نے 75 فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے۔ ریاض الرحمان ساغر کے فلمی گیتوں کی کتاب شائع ہوئی جس کا نام تھا ’’میں نے جو گیت لکھے‘‘۔ اس طرح ان کی نثری تصنیفات میں ’’وہ بھی کیا دن تھے (خود نوشت) کیمرہ، قلم اور دنیا (سات ملکوں کے سفر نامے) لاہور تا ممبئی براستہ دہلی (بھارت کا سفرنامہ)، سرکاری مہمان خانہ (جیل میں بیتے لمحات پر کتاب)‘‘ شامل ہیں۔ اسی طرح ان کی شاعری کی بھی کئی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ ان میں ’’چاند سُر ستارے، آنگن آنگن تارے (اس کتاب میں شائع ہونے والی بچوں کی نظمیں سرکاری ٹی وی پر پیش کی گئیں) سورج کب نکلے گا ‘‘(نامکمل خود نوشت) شامل ہیں۔ ساغر صاحب نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔ خاص طور پر ان کی سیاسی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ ان سب حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ساغر صاحب نے بہت کام کیا اور وہ کثیر الجہات شخصیت تھے۔ گیت نگاری کے میدان میں اپنے نام کا سکہ جمانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کر دکھایا۔ ساغر صاحب نے سب سے پہلے ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ میں کام کیا۔ لیکن انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ یہاں وہ لگن سے کام نہیں کر سکتے۔ وہ لاہور کے ایک اُردو روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے پہلے انٹرمیڈیٹ کیا اور پھر پنجابی فاضل میں بی اے کیا۔ انہوں نے لاہور کے ایک روزنامے میں فلم ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور 1996 تک اسی ادارے کے ہفت روزہ جریدے میں بھی کام کیا۔ انہوں نے کالم نویسی کے فن کو ایک نیا روپ دیا۔ وہ پہلے کالم نویس تھے جنہوں نے نظم یا گیت کی شکل میں کالم لکھے۔ 1996 میں ان کا پہلا کالم ’’عرض کیا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کالم میں سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ان کے آخری کالم کا عنوان تھا ’’صبح کا ستارہ چھپ گیا ہے‘‘۔ ریاض الرحمان ساغر نے 1958 میں پہلا فلمی گیت لکھا لیکن جس فلم کے لیے لکھا وہ ریلیز نہ ہو سکی۔ گیتوں کے حوالے سے ان کی جو پہلی فلم ریلیز ہوئی، اس کا نام تھا ’’عالیہ‘‘۔ لیکن انہیں اصل شہرت فلم ’’شریکِ حیات‘‘ کے اس گیت سے ملی ’’مرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے‘‘۔ انہوں نے ایک پنجابی فلم ’’عشق خدا‘‘ کے لیے بھی گیت لکھے جو ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی۔ انہوں نے جن مشہور فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے ان میں ’’شمع، نوکر، سسرال، شبانہ، نذرانہ، عورت ایک پہیلی، آواز، بھروسہ، ترانہ اور مور‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے شباب کیرانوی کے ساتھ بہت کام کیا۔ وہ اپنے آپ کو قتیل شفائی کا شاگرد کہتے تھے۔ ریاض الرحمان ساغر کو کئی ایوارڈ دیے گئے جن میں نیشنل فلم ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ اور بولان ایوارڈ شامل ہیں۔ہم ذیل میں ساغر صاحب کے کچھ مشہور فلمی نغمات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں (سماج)، آنکھیں غزل ہیں آپ کی (سہیلی)، دیکھا جو چہرہ تیرا (گھونگھٹ)، مجھ کو بھی کوئی لفٹ کرا دے (گلوکار عدنان سمیع)، کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں (مجھے چاند چاہیے)، میری وفا، میرے وعدے پہ (بے قرار)، مرے دل کے صنم خانے میں (شریکِ حیات) ،دل لگی میں ایسی دل کو لگی (دل لگی)،اچھا اچھا لاگو رے (بندش)، ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو (سرگم)، پیار ہے، یہی تو پیار ہے (سرگم)، لکھ دی ہم نے آج کی شام (نیک پروین)، تیرے سنگ رہنے کی (ایک چہرہ دو روپ)، کچھ دیر تو رُک جاؤ۔ ساغر صاحب کی غزلوں کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں کہیں سکوں نہ ملا اور نہ کچھ قرار ملا مرے نصیب میں غم تھا وہ بار بار ملا سامنے میرے تیری صورت ہے چاند کی آج کیا ضرورت ہے کبھی میں سوچتا ہوں کیا عجب سا آدمی ہوں میں مگر ساغر بساط اپنی بتانا کیا ضروری ہے نہ کر فردوس کا دربند رضواں اسے میرے لیے کھلنا پڑے گا کانٹوں سے بھر گئے ہیں جو پھولوں کے راستے اپنا لیے ہیں ہم نے اصولوں کے راستے ترتیب پا چکی ہے جو فہرستِ عاشقاں اس میں کہاں پہ آئے مرا نام دیکھئے کسی کو کیا پرکھنا ہے بھرم یاروں کا رکھنا ہے ضرورت جس کو جتنی ہو ہم اتنا پیار کرتے ہیں یہ کیا کہ آدمی اک عشق میں بدنام ہو جائے ریاض الرحمان ساغر نے کئی سیاسی نظمیں لکھیں۔ ان میں ایک نظم واجپائی… شادی؟ ملاحظہ فرمائیں آپ نے گر شادی کی ہوتی اور کوئی بیٹی بھی ہوتی ہوتے آپ اگر کشمیری وہ کشمیر میں جلتی ہوتی آپ کے سینے میں دل ہوتا جو انصاف کا قائل ہوتا وادی کو برباد نہ کرتے اُس کی رد فریاد نہ کرتے دیتے وادی کو آزادی اور کرتے بیٹی کی شادی یکم جون 2013کو ریاض الرحمان ساغر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اُن کی ادبی خدمات کون فراموش کر سکتا ہے؟ یقینا کوئی نہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
استاد دامن عوامی شاعر تھے،حبیب جالب کو اپنا,, اردو ایڈیشن,, کہتے تھے


عبدالحفیظ ظفر

استاد دامن ایک عجیب و غریب شخصیت تھے۔ وہ تھے تو پنجابی کے عوامی شاعر لیکن ایسے شاعر جن کا ان کی زندگی میں کبھی کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ جب کبھی ان سے استفسار کیا جاتا کہ وہ شعری مجموعہ کیوں نہیں شائع کراتے تو ان کا جواب ہوتا ’’جب میرا کلام عوام کو زبانی یاد ہے تو پھر مجھے شعری مجموعہ چھپوانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ چار ستمبر 1911ء کو لاہور میں جنم لینے والے استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت وہ پنجابی کے سب سے مشہور شاعر تھے۔ انہوں نے کیا شعر کہا تھا ایہہ دُنیا منڈی پیسے دی، ہر چیز وکِندی بھا سجنا ایتھے روندے چہرے وکدے نئیں، ہسنے دی عادت پا سجنا انہوں نے پاکستان میں ہمیشہ فوجی آمریت کی مخالفت کی۔ انہیں سیاست میں میاں افتخارالدین لائے جو بائیں بازو کے معروف رہنما اور تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے۔ استاد دامن کو اصل میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے متعارف کرایا گیا۔ استاد دامن پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے میاں افتخارالدین کا ایک سوٹ تیار کیا جو ان کی شاعری سن کر بڑے متاثر ہوئے۔ انہوں نے استاد دامن کو دعوت دی کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے زیراہتمام جلسے میں اپنی نظم پڑھیں۔ جب استاد دامن نے نظم پڑھ کر سنائی تو ان کے نام کا ڈنکا ہر طرف بجنے لگا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اس جلسے میں موجود تھے۔ انہوں نے استاد دامن کی انقلابی اور سامراج کے خلاف نظم سن کر انہیں ’’شاعرِ آزادی‘‘ قرار دیا۔ 1947ء کے فسادات میں استاد دامن کی دکان اور گھر کو فسادیوں نے نذرِ آتش کر دیا۔ ان کی اہلیہ اور جوان بیٹی کو بھی موت کی نیند سلا دیا۔ تاہم استاد دامن نے لاہور میں ہی قیام پذیر ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ تمام زندگی آمریت، منافقت اور کرپشن سے نفرت کرتے رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے مداحین نے ان کا شعری مجموعہ ’’دامن دے موتی‘‘ شائع کیا۔ ان کی نظموں کا آج بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ وہ پہلے ’’ہمدم‘‘ کے قلمی نام سے لکھتے رہے۔ یہ قلمی نام بعدازاں ’’دامن‘‘ ہو گیا۔ استاد کا خطاب انہیں مقامی لوگوں نے دیا۔ اس کے بعد استاد دامن سیاسی اور عوامی جلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے۔ وہ اکثر اس رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ جدوجہدِ آزادی اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک ہندو، مسلمان اور سکھوں میں اتحاد نہیں ہو جاتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں انہوں نے ایک نظم لکھی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کے جذبات انہی کی زبان میں بیان کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عوامی شاعر کہلائے۔ اس کے علاوہ وہ رجائیت پسند تھے اور انہوں نے اپنے مداحین کو کبھی یاسیت اور قنوطیت کی دلدل میں نہیں دھکیلا۔ ذرا ان کی یہ شاعری ملاحظہ کیجیے۔ ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں پراں نال میٹن والیو اوئے موئیاں ہویا دیاں صفاں ولیٹن والیو کر لو کوٹھیاں وچ چاننا کھو کے ساڈیاں اکھیاں دا نور ایتھے انقلاب آئے گا ضرور سانوں کوئی شکست نہیں دے سکدا بھانویں کوئی کڈا دم خم نکلے استاد دامن دے گھر ویکھیا جے دو ریوالور تے تن دستی بم نکلے استاددامن نے پنجاب اور پنجابی زبان سے اپنی محبت کا اظہار بھی بڑے واضح انداز میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں پنجابی پنجاب دے رہن والا سدا خیر پنجابی دی منگ دا ہاں موتی کسے سہاگن دی نتھ دا ہاں ٹُکڑا کسے پنجابن دی ونگ دا ہاں اس کے بعد وہ اس بات کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ وہ اردو اور انگریزی کے دشمن نہیں لیکن ان کی منہ بولی زبان پنجابی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں اردو دا میں دوکھی ناہیں تے دشمن نہیں انگریزی دا پچھدے او میرے دل دی بولی ہاں جی ہاں، پنجابی اے بلھا ملیا ایسے وچوں ایسے وچوں وارث وی دھاراں ملیاں ایسے وچوں میری ماں پنجابی اے اب زندگی کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں زندگی کیہ اے پتن سیاپیاں دی روندے آئے ساں پٹ دے گزر چلے خون جگر دا تلی تے رکھ کے تے دھرتی پوچدے پوچدے گزر چلے ایتھے کیویں گزارئیے زندگی نوں ایہو سوچدے سوچدے گزر چلے اب ذرا مندرجہ ذیل شعروں کو دیکھیں جہاں وہ دلیل سے کہتے ہیں کہ کم عقلوں اور نادانوں کو اپنے اشعار سنانا بالکل بے سود ہے۔ کم عقلی تے تیری کوئی شک نہیں دانش جاہلاں نوں پیا وار ناں دامنؔ شعر سناؤنا ایں مورکھاں نوں موتی پتھراں تے پیا وار ناں ایں استاد دامن فطری حقائق کا بہت ادراک رکھتے تھے اور انسانی فطرت کے گوشے بھی بے نقاب کرتے تھے۔ ان کی یہ شاعری ملاحظہ کریں لا غرض اگے غرض پیش کر کے انھّے اگے مورکھا رون لگا ایں آئی جوانی گئی جوانی جیون بدلاں دی چھاں بھاویں رہی ایہہ چار دیہاڑے ناں دی پھلے ناں کسے غیر نے مینوں ماریا نہیں جنھے ماریا یار بن کے جنہوں کلی گلاب سمجھیا ساں اوہ ساہمنے آیا تلوار بن کے استاد دامن حبیب جالب کو اپنا ’’اردو ایڈیشن‘‘ کہتے تھے۔ وہ کہتے تھے وہ اردو کا عوامی شاعر ہے اور میں پنجابی کا عوامی شاعر ہوں۔ اگرچہ بعض نقاد حبیب جالب اور استاد دامن کو نعرے باز کہتے ہیں لیکن یہ ایک رائے ہے۔ ویسے تو ڈاکٹر وزیر آغا جیسے جیّد نقاد نے فیض احمد فیض کو بھی نعرے باز کہا تھا۔ ان نقادوں کے نزدیک معروضی صداقتوں اور عصری کرب کو عوام کی زبان میں بیان کرنا نعرے بازی ہے اور ایسا کلام شعری طرزاحساس سے خالی ہوتا ہے۔ بقول حسن عسکری یہ نفس کی نہیں آفاق کی شاعری ہے۔ ’’وقت کی راگنی‘‘ میں انہوں نے بڑی صراحت سے ایسی شاعری کو رد کیا ہے۔ لیکن کیا یہی حرفِ آخر ہے؟ اس پر بحث کے درواز ے کھل سکتے ہیں۔ 1984ء ایک ایسا سال تھا جب بڑی معروف ہستیاں عالمِ جاوداں کو سدھار گئیں۔ ان میں راجندر سنگھ بیدی، خواجہ خورشید انور اور فیض احمد فیض شامل ہیں۔ اسی سال کے آخر میں (تین دسمبر1984ئ) کو استاد دامن بھی یہ جہاں چھوڑ گئے… رہے نام اللہ کا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
مولانا حالیؔ اور حقوقِ نسواں
attachFull42601

ڈاکٹر صغرا مہدی
مولانا الطاف حسین حالی نے 1874ء میں مراۃ العروس سے متاثر ہو کر عورتوں کی تعلیم کے موضوع پر ایک ناول ’’مجالس النسا‘‘ لکھا جس میں انہوں نے یہ بتایا کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ابواب کو ’’مجلس‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس طرح یہ ناول نو مجلسوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی مجلس میں علم کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسری مجلس میں تعلیم کو دلچسپ بنانے کے طریقے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ناول دو حصوں میں ہے۔ پہلے میں زبیدہ کی تعلیم و تربیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں سید عباس کی تعلیم و تربیت کا ذکر ہے۔ آتو جی کے ذریعہ حالی نے یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی ہے کہ لوگ لڑکوں کو پڑھانا ضروری سمجھتے ہیں لڑکیوں کو نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جاہل رہ جانے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کر سکتی ہیں، اس طرح مردوں کی تعلیم سے قوم کو اس وقت تک فائدہ نہیں پہنچ سکتا جب تک مائیں تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ اس کی مثال انہوں نے مجالس النسا میں پیش کی۔ دوسری مجلس سے پانچویں مجلس تک زبیدہ کی ماں کی ان کوششوں کا بیان ہے جو وہ زبیدہ کی تعلیم و تربیت کے لیے کرتی ہیں۔ مجالس النسا میں حالی آتو جی کی زبان سے کہلواتے ہیں ’’بچوں کی مائیں اگر اس قابل ہوں کہ اپنے بچوں کو آپ تعلیم دیا کریں تو اس ملک کے دن ہی نہ پھر جائیں، شاید تم نے سنا نہیں کہ فرنگیوں کے ملک میں ان پڑھ آدمی کہیں نام کو ڈھونڈے نہیں ملتا… یہ بات ہے کہ ان کے یہاں لڑکیوں کے پڑھانے کا دستور قدیم سے چلا آتا ہے۔ وہی لڑکیاں جب بیاہی گئیں اور صاحب اولاد ہوئیں، انہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم دینا شروع کیا۔ یہی بات ہے جو ان کے یہاں …عورتوں اور مرد سب ایک سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں… میرے نزدیک بیٹا یا بیٹی کیا بغیر ماں کی تعلیم کے کسی کو آدمیت نہیں آ سکتی۔‘‘ یہی نہیں حالی کا یہ خیال تھا ’’تاوقتیکہ عورتوں میں زمانۂ حال کی تعلیم رواج نہ پائے اور واعظین زبانی مجلسوں میں قرآن و حدیث کی رو سے بیہودہ فضول رسموں کی برائیاں ذہن نشیں نہ کریں، بہت ہی کم امید ہے کہ ہماری طرزِ معاشرت میں کوئی معتدبہ اصلاح ہو سکے۔‘‘اپنی مشہور نظم ’’چپ کی داد‘‘ میں وہ تعلیمِ نسواں کے سلسلے میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، اس طرح ان کی ہمت بڑھاتے ہیں۔ اے بے زبانوں کی زبانو بے بسوں کے بازوؤ تعلیمِ نسواں کی مہم جو تم کو اب پیش آئی ہے یہ مرحلہ ہے پہلے تم سے جن قوموں کو پیش منزل پر گاڑی ان کی استقلال نے پہنچائی ہے ’’چپ کی داد‘‘ اردو شاعری میں اپنی طرز کی منفرد نظم ہے جس میں حالی نے عورت ذات کی خوبیوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہا ہے اور جس عزت بلکہ عقیدت سے ذکر کیا ہے وہ اس بات کا غماز ہے کہ واقعی خواتین کا ان کے دل میں کس قدر احترام تھا اور ان کے ساتھ مردوں نے جو زیادتیاں کی تھیں، ان کو اس کا شدید احساس بھی۔ اس سلسلے میں انہوں نے کتنے پتے کی باتیں کہی ہیں۔ دنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سب تم پر مبادا علم کی پڑ جائے نہ پرچھائیں کہیں ایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرق تعلیم پا کر آدمی بننا تمہیں زیبا نہیں بیسویں صدی کی ابتدا میں جب جدید تہذیب کے اثر سے قوم کے ہمدرد، خاص طور سے مسلمانوں میں بیداری پھیلا رہے تھے۔ ان کو جدید تعلیم حاصل کرنے اور مغربی تہذیب و تمدن کو اختیار کرنے پر اکسا رہے تھے اور ایک طبقے کو یہ کہہ کر نظرانداز کیا جا رہا تھا کہ جب اس سے ارفع اور اعلیٰ طبقہ تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ ہو جائے گا تو اس کی طرف بھی توجہ کی جائے گی۔ حالی کی یہ آواز گونجتی ہے جو سرتاسر ان خیالات کی تردید کرتی ہے۔ اے ماؤ بہنو بیٹیو دنیا کی زینت تم سے ہے ملکوں کی بستی ہو تمہیں قوموں کی عزت تم سے ہے تم گھر کی ہو شہزادیاں شہروں کی ہو آبادیاں غم گیں دلوں کی شادیاں دُکھ سُکھ میں راحت تم سے ہے نیکی کی تم تصویر ہو عفت کی تم تدبیر ہو ہو دیں کی تم پاسبان ایمان سلامت تم سے ہے فطرت تمہاری ہے حیا طینت میں ہے مہرووفا گھٹی میں ہے صبرورضا ایمان عبارت تم سے ہے عورت بچے کی ماں بنتی ہے اور اس کی پرورش میں جو صعوبتیں خوشی خوشی اٹھاتی ہے جس طرح وہ دن رات ایک کر کے اولاد کی پرورش کرتی ہے، کتنے مردوں کو احساس ہے! مگر حالی کہتے ہیں تھا پالنا اولاد کا مردوں کے بوتے سے سوا آخر کو اے دکھیاریو جو خدمت تمہارے سر پڑی پیدا اگر ہوتیں نہ تم بیڑا نہ ہوتا پار یہ چیخ اٹھتے دو دن میں اگر مردوں پر پڑتا بار یہ پھر کس درد سے عورتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کا ذکر کرتے ہیں افسوس دنیا میں بہت تم پر ہوئے جوروجفا حق تلفیاں تم نے سہیں بے مہرباں جھیلیں سوا اکثر تمہارے قتل پر قوموں نے باندھی ہے کمر دیں تاکہ تم کو یک قلم خود لوحِ ہستی سے مٹا گاڑی گئیں تم مدتوں مٹی میں جیتی جاگتی حامی تمہارا تھا نہ کوئی بجز ذاتِ خدا زندہ سدا جلتی رہیں تم مردہ خاوندوں کے ساتھ اور چین سے عالم رہا یہ سب تماشے دیکھتا بیاہی گئیں اس وقت تم جب بیاہ سے واقف نہ تھیں جو عمر بھر کا عہد تھا وہ کچے دھاگے سے بندھا گزاری امید و بیم میں جب تک رہا باقی سہاگ بیوہ ہوئیں تو عمر بھر چین قسمت میں نہ تھا جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آبِ حیات ٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہرِ ہلاہل سربسر ’’چپ کی داد‘‘ میں حالی نے بہت خوبی کے ساتھ ایک طرف عورت کے رتبہ سے لوگوں کو واقف کرنا چاہا ہے، دوسری طرف اس کی زندگی کے مختلف ادوار میں اس کے رول کو ابھارا ہے۔ اسی کے ساتھ اس پر ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بھی بلند کی ہے اور ساتھ میں اصلاح کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
جب والد کا سایہ سر پر نہیں رہا! قتیل شفائی کی زندگی کا ایک ورق
View attachment 117864
قتیل شفائی کا شمار اردو کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ممتاز فلم نغمہ نگار تھے۔ انہوں کے اشعار جب بھی پڑھے جائیں، دل پر اثر کرتے ہیں، جیسے؛ آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں وہ اپنی آپ بیتی میں اپنے ابتدائی حالات کچھ یوں بیان کرتے ہیں: میں جب پیدا ہوا تو اس وقت مجھ سے پہلے گھر میں کوئی اولاد نہیں تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ میرے باپ نے جب پہلی شادی کی تو کافی عرصہ تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ خاندان کے اور گھریلو مشورے سے انہیں مجبوراً دوسری شادی کرنا پڑی جس سے 24 دسمبر 1919ء کو میں اپنے آبادی گاؤں ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوا۔ چونکہ یہ میرے والد کی پہلی اولاد تھی اس لیے میری پیدائش پر بہت جشن منایا گیا۔ میری تولید کے تین سال بعد میری بہن پیدا ہوئی اور خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسی دوران پہلی ماں سے بھی ایک بچہ ہوگیا اور وہ ہمارے گھر میں آخری بچہ تھا۔ گویا ایک ماں سے دو اولادیں ہوئیں اور دوسری ماں سے ایک جن کی کل تعداد تین بنتی ہے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ میرے والد کی دو شادیوں میں کوئی معاملہ معاشقے، آوارہ گردی یا عیاشی کا نہیں تھا بلکہ ایک ضرورت کے تحت میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں، اس لیے گھریلو ماحول پُرسکون رہا اور دونوں مائیں ایک دوسرے کا احترام کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے بچوں سے بھی پیار کرتی تھیں۔ اس کے باوجود ظاہر ہے کہ دو شادیوں کی قباحتیں اپنی جگہ ہیں۔ کبھی کبھی وہ پہلو بھی سامنے آ جاتا تھا لیکن عام طور پر حالات خوشگوار ہی رہے، سوائے اس کے کہ میرے والد گھریلو اخراجات اور ضرورتوں کے بڑھنے کی وجہ سے کاروبار اور محنت کا سلسلہ بڑھانے پر مجبور تھے اور اس کے علاوہ انہیں ایک اور طرف جانا پڑ گیا جسے ہم شرفا کی زبان میں ایک اچھا کام نہیں کہہ سکتے اور وہ کام تھا کارنیوال۔ میرے والد کا حلقہ احباب متحدہ ہندوستان کے بڑے بڑے روسا کا تھا جو اپنے وقت میں بہت بڑے سرمائے کے ساتھ شغف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ جنہوں نے کارنیوال کا کاروبار شروع کیا، اس میں میرے والد سمیت پارٹنرز تھے۔ اس کاروبار میں انہیں اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔ اس صورت میں میری پرورش ایک امیرانہ ماحول میں ہوئی اور میں نازو نعم میں پلا لیکن یہ ساری چیزیں ہونے کے باوجود راستے میں ایک قسم کی دیوار بھی ہوتی ہے۔ بچپن ہی میں والد رخصت ہو گئے جن کے بل بوتے پر یہ ساری عیش و عشرت کی فضا قائم تھی، جب تک وہ زندہ رہے، انہوں نے میری ہر خواہش پوری کی۔ پانچویں جماعت میں جب میں سکول کی بزم ادب کا سیکرٹری بن گیاتو انہوں نے میری پوری کلاس اور متعلقہ اساتذہ کو ایک اچھی خاصی دعوت دے ڈالی جیسے آج کل کوئی کونسلر منتخب ہو جائے۔ اسی طرح اس زمانے میں مجھے موسیقی کا شوق تھا تو انہوں نے ایک گرامو فون اور اس سے متعلقہ چیزیں مجھے فراوانی سے مہیا کر دیں۔ پھر سیاحت کا شوق ہوا تو جہاں میں نے جانا چاہا، انہوں نے اس ہدایت کے ساتھ کہ اچھی کلاس میں سفر کرنا مجھے دوستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ ابتدا ہی سے میرے لیے مشہور تھا کہ میں خوش لباس، خوش گفتار اور خوش خوراک ہوں۔ یہ سب چیزیں مجھے اپنے والد کی طرف سے ملی ہوئی تھیں۔ انہوں نے میری تربیت کچھ اس رنگ میں غیر محسوس طور پر کی تھی کہ انہوں نے مجھے زندگی کا قرینہ اور مجلسی آداب سکھائے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ میرے اندر تھوڑا سا ادب کا شائبہ بھی ہے تو انہوں نے بہت سی ادبی کتابیں بھی مجھے مہیا کر دیں حالانکہ اس دور میں ادبی کتابیں بہت کم ہوتی تھیں۔ وہ الف لیلیٰ اور حاتم طائی وغیرہ کی کہانیاں اس بہانے سے مجھ سے پڑھاتے تھے کہ خود بہت کم پڑھے ہوئے تھے۔ اکثر مجھے کہتے کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے یہ کتاب پڑھ کر سناؤ اور یوں سننے کے بہانے وہ مجھے پڑھاتے تھے۔ شاعری کی صرف وہی کتابیں میرے ہاتھ آتی تھیں جو گورنمنٹ ہائی سکول ہری پوری کی لائبریری میں میسر تھیں۔ اس زمانے کے گراموفون ریکارڈوں میں آج کی طرح گھٹیا شاعری نہیں ہوتی تھی بلکہ اساتذہ کا کلام ہی ہوتا تھا۔ میرے پاس جو ریکارڈ تھے ان میں زیادہ تر غالب، امیر مینائی اور ذوق کا کلام تھا۔ زیادہ تر گانے والے اساتذہ ہی کا کلام گاتے تھے۔ میرے والد مجھے چن چن کر ایسے ریکارڈ مہیا کرتے تھے جن میں شاعری کا ایک معیار ہوتا تھا اور یوں میری ذہنی پرورش ہوتی رہی۔ جب میں چھٹی کلاس میں تھا اور بزم ادب کا سیکرٹری بھی تھا تو سکول میں مضمون نویسی اور شاعری کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں مجھے اپنی نظم پر انعام میں ایک کتاب ’’سوز بیدل‘‘ ملی۔ بیدل پشاور کے شاعر تھے۔ سکول کے ہیڈماسٹر خواجہ محمد اشرف تھے۔ وہ ہمارے کرایہ دار بھی تھے اور ان سے ہمارے گھریلو تعلقات بھی تھے۔ ان کی مجھ پر بڑی توجہ تھی اس لیے مجھے انعام ملنے پر وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ میرے والد کی وفات کے وقت ہماری پوری فیملی میں پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے اور انہیں بالکل احساس نہیں ہوا کہ اس لڑکے کو آگے جینا بھی ہے۔ انہوں نے میری ماں کو مشورہ دیا کہ اب باپ کا سایہ سر پر نہیں ہے، اس لیے لڑکے کو کاروبار کروا دو۔ اس وقت میرے دو تایا موجود تھے۔ ایک تایا فاترالعقل تھے اور بڑی مدت سے پاگل چلے آ رہے تھے۔ وہ گویا ایک سرپرست کے فرائض ادا نہ کر سکتے تھے۔ دوسرے تایا بھی اکثر بیمار رہتے تھے۔ یہ دونوں ایک طرح سے ہماری فیملی کی ذمہ داری بن چکے تھے اور ان کی نگہداشت بھی ہمیں کرنا پڑتی تھی۔ میری ماں بہت سادہ عورت تھی اور بالکل اَن پڑھ تھی۔ وہ بھی اس سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی جس میں باقی ساری فیملی۔ اس وقت میری عمر تقریباً 16 برس تھی۔ مجھے کہا گیا کہ کاروبار کرو۔ کاروبار کے بارے میں مجھے کوئی تجربہ یا ٹریننگ نہ تھی۔ سب سے پہلے مجھے فٹ بال یا سپورٹس کی دکان کھول کر دی گئی اس لیے کہ سپورٹس سے میرا تعلق تھا۔ اس کاروبار میں کوئی فائدہ ہوا نہ ہونا تھا کیونکہ مجھے دکانداری کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔ تمام کاروبار پرانے کاروباریوں کے ہاتھ میں تھا، بلکہ سکول کے لڑکے آتے تھے اور چائے وغیرہ پی کر چلے جاتے تھے۔ جب اس کاروبار میں نقصان ہوا تو بچا ہوا مال کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے سائیکلوں کی دکان کھول کر دی گئی۔ اس لیے کہ نئی سائیکلیں فروخت کی جا سکیں گی اور پرانی کرایہ پر دی جا سکیں گی۔ مگر اس دکان کا بھی پہلی دکان جیسا حشر ہوا۔ اس کے بعد کچھ رشتہ داروں نے مشورہ دیا کہ ایبٹ آباد میں بزازی کی دکان کھولنی چاہیے۔ اب اس طرح کے کام بڑی ٹریننگ چاہتے ہیں بلکہ اگر فیملی میں یہ کام پیچھے سے چلا آتا ہو تو یہ کاروبار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایبٹ آباد میں بزازی کی دکان میری 13 دن چلی اور اس کے بعد بند ہو گئی کیونکہ اس تمام عرصے میں ایک گاہک بھی نہ آیا تھا۔ (’’گھنگھرو ٹوٹ گئے‘‘ سے اقتباس)

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?