Famous Writers and poet's BioGraphy!!

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
ہمارے بلوچستان میں بھی بہت بڑے بڑے شاعر ہیں
ان کو بھی اتنی شہرت نہیں ملی
آپ کا علم کافی اچھا ہے ہے
آپ بتا سکتے ہیں بلوچستان میں کس کس جگہ پہ شاعر ہیں
مطلب راءے دینی ہے
ان شاءاللہ
اگلی مرتبہ پلوچستان سے تعلق رکھنے والے شعراءکی سوانح حیات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا
 
  • Like
Reactions: maria_1 and Taha1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,698
3,777
213
ان شاءاللہ
اگلی مرتبہ پلوچستان سے تعلق رکھنے والے شعراءکی سوانح حیات شیئر کرنے کی کوشش کروں گا
آپ کا مطلب بلوچی زبان میں شاعری کرنیوالے یا اردو بلوچ شاعر
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
ریاض الرحمان ساغر عمدہ گیت نگار اور بہت اچھے نظم گو تھے
115669

عبدالحفیظ ظفر

کچھ لوگوں کو قدرت نے بہت سی خوبیاں عطا کی ہوتی ہیں۔ ان کے فن کی بہت سی جہتیں ہوتی ہیں اور وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وطن عزیز میں ایسے بے شمار نام لیے جا سکتے ہیں جن میں سے ایک نام ہے ریاض الرحمان ساغر۔ یکم دسمبر 1941ء کو بٹھنڈا (بھارت) میں پیدا ہونے والے ریاض الرحمان ساغر شاعر بھی تھے اور فلمی گیت نگار بھی۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور کالم نویسی میں بھی نام کمایا۔ اس کے علاوہ ساغر صاحب نے مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے 2000 سے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔ اسی طرح انہوں نے 75 فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے۔ ریاض الرحمان ساغر کے فلمی گیتوں کی کتاب شائع ہوئی جس کا نام تھا ’’میں نے جو گیت لکھے‘‘۔ اس طرح ان کی نثری تصنیفات میں ’’وہ بھی کیا دن تھے (خود نوشت) کیمرہ، قلم اور دنیا (سات ملکوں کے سفر نامے) لاہور تا ممبئی براستہ دہلی (بھارت کا سفرنامہ)، سرکاری مہمان خانہ (جیل میں بیتے لمحات پر کتاب)‘‘ شامل ہیں۔ اسی طرح ان کی شاعری کی بھی کئی کتابیں منظر عام پر آئیں۔ ان میں ’’چاند سُر ستارے، آنگن آنگن تارے (اس کتاب میں شائع ہونے والی بچوں کی نظمیں سرکاری ٹی وی پر پیش کی گئیں) سورج کب نکلے گا ‘‘(نامکمل خود نوشت) شامل ہیں۔ ساغر صاحب نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔ خاص طور پر ان کی سیاسی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ ان سب حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ساغر صاحب نے بہت کام کیا اور وہ کثیر الجہات شخصیت تھے۔ گیت نگاری کے میدان میں اپنے نام کا سکہ جمانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کر دکھایا۔ ساغر صاحب نے سب سے پہلے ہفت روزہ ’’لیل و نہار‘‘ میں کام کیا۔ لیکن انہیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ یہاں وہ لگن سے کام نہیں کر سکتے۔ وہ لاہور کے ایک اُردو روزنامے سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے پہلے انٹرمیڈیٹ کیا اور پھر پنجابی فاضل میں بی اے کیا۔ انہوں نے لاہور کے ایک روزنامے میں فلم ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور 1996 تک اسی ادارے کے ہفت روزہ جریدے میں بھی کام کیا۔ انہوں نے کالم نویسی کے فن کو ایک نیا روپ دیا۔ وہ پہلے کالم نویس تھے جنہوں نے نظم یا گیت کی شکل میں کالم لکھے۔ 1996 میں ان کا پہلا کالم ’’عرض کیا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کالم میں سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ان کے آخری کالم کا عنوان تھا ’’صبح کا ستارہ چھپ گیا ہے‘‘۔ ریاض الرحمان ساغر نے 1958 میں پہلا فلمی گیت لکھا لیکن جس فلم کے لیے لکھا وہ ریلیز نہ ہو سکی۔ گیتوں کے حوالے سے ان کی جو پہلی فلم ریلیز ہوئی، اس کا نام تھا ’’عالیہ‘‘۔ لیکن انہیں اصل شہرت فلم ’’شریکِ حیات‘‘ کے اس گیت سے ملی ’’مرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے‘‘۔ انہوں نے ایک پنجابی فلم ’’عشق خدا‘‘ کے لیے بھی گیت لکھے جو ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی۔ انہوں نے جن مشہور فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے ان میں ’’شمع، نوکر، سسرال، شبانہ، نذرانہ، عورت ایک پہیلی، آواز، بھروسہ، ترانہ اور مور‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے شباب کیرانوی کے ساتھ بہت کام کیا۔ وہ اپنے آپ کو قتیل شفائی کا شاگرد کہتے تھے۔ ریاض الرحمان ساغر کو کئی ایوارڈ دیے گئے جن میں نیشنل فلم ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ اور بولان ایوارڈ شامل ہیں۔ہم ذیل میں ساغر صاحب کے کچھ مشہور فلمی نغمات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں (سماج)، آنکھیں غزل ہیں آپ کی (سہیلی)، دیکھا جو چہرہ تیرا (گھونگھٹ)، مجھ کو بھی کوئی لفٹ کرا دے (گلوکار عدنان سمیع)، کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں (مجھے چاند چاہیے)، میری وفا، میرے وعدے پہ (بے قرار)، مرے دل کے صنم خانے میں (شریکِ حیات) ،دل لگی میں ایسی دل کو لگی (دل لگی)،اچھا اچھا لاگو رے (بندش)، ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو (سرگم)، پیار ہے، یہی تو پیار ہے (سرگم)، لکھ دی ہم نے آج کی شام (نیک پروین)، تیرے سنگ رہنے کی (ایک چہرہ دو روپ)، کچھ دیر تو رُک جاؤ۔ ساغر صاحب کی غزلوں کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں کہیں سکوں نہ ملا اور نہ کچھ قرار ملا مرے نصیب میں غم تھا وہ بار بار ملا سامنے میرے تیری صورت ہے چاند کی آج کیا ضرورت ہے کبھی میں سوچتا ہوں کیا عجب سا آدمی ہوں میں مگر ساغر بساط اپنی بتانا کیا ضروری ہے نہ کر فردوس کا دربند رضواں اسے میرے لیے کھلنا پڑے گا کانٹوں سے بھر گئے ہیں جو پھولوں کے راستے اپنا لیے ہیں ہم نے اصولوں کے راستے ترتیب پا چکی ہے جو فہرستِ عاشقاں اس میں کہاں پہ آئے مرا نام دیکھئے کسی کو کیا پرکھنا ہے بھرم یاروں کا رکھنا ہے ضرورت جس کو جتنی ہو ہم اتنا پیار کرتے ہیں یہ کیا کہ آدمی اک عشق میں بدنام ہو جائے ریاض الرحمان ساغر نے کئی سیاسی نظمیں لکھیں۔ ان میں ایک نظم واجپائی… شادی؟ ملاحظہ فرمائیں آپ نے گر شادی کی ہوتی اور کوئی بیٹی بھی ہوتی ہوتے آپ اگر کشمیری وہ کشمیر میں جلتی ہوتی آپ کے سینے میں دل ہوتا جو انصاف کا قائل ہوتا وادی کو برباد نہ کرتے اُس کی رد فریاد نہ کرتے دیتے وادی کو آزادی اور کرتے بیٹی کی شادی یکم جون 2013کو ریاض الرحمان ساغر اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اُن کی ادبی خدمات کون فراموش کر سکتا ہے؟ یقینا کوئی نہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
استاد دامن عوامی شاعر تھے،حبیب جالب کو اپنا,, اردو ایڈیشن,, کہتے تھے


عبدالحفیظ ظفر

استاد دامن ایک عجیب و غریب شخصیت تھے۔ وہ تھے تو پنجابی کے عوامی شاعر لیکن ایسے شاعر جن کا ان کی زندگی میں کبھی کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ جب کبھی ان سے استفسار کیا جاتا کہ وہ شعری مجموعہ کیوں نہیں شائع کراتے تو ان کا جواب ہوتا ’’جب میرا کلام عوام کو زبانی یاد ہے تو پھر مجھے شعری مجموعہ چھپوانے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ چار ستمبر 1911ء کو لاہور میں جنم لینے والے استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت وہ پنجابی کے سب سے مشہور شاعر تھے۔ انہوں نے کیا شعر کہا تھا ایہہ دُنیا منڈی پیسے دی، ہر چیز وکِندی بھا سجنا ایتھے روندے چہرے وکدے نئیں، ہسنے دی عادت پا سجنا انہوں نے پاکستان میں ہمیشہ فوجی آمریت کی مخالفت کی۔ انہیں سیاست میں میاں افتخارالدین لائے جو بائیں بازو کے معروف رہنما اور تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے۔ استاد دامن کو اصل میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے متعارف کرایا گیا۔ استاد دامن پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔ 1930ء میں انہوں نے میاں افتخارالدین کا ایک سوٹ تیار کیا جو ان کی شاعری سن کر بڑے متاثر ہوئے۔ انہوں نے استاد دامن کو دعوت دی کہ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے زیراہتمام جلسے میں اپنی نظم پڑھیں۔ جب استاد دامن نے نظم پڑھ کر سنائی تو ان کے نام کا ڈنکا ہر طرف بجنے لگا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اس جلسے میں موجود تھے۔ انہوں نے استاد دامن کی انقلابی اور سامراج کے خلاف نظم سن کر انہیں ’’شاعرِ آزادی‘‘ قرار دیا۔ 1947ء کے فسادات میں استاد دامن کی دکان اور گھر کو فسادیوں نے نذرِ آتش کر دیا۔ ان کی اہلیہ اور جوان بیٹی کو بھی موت کی نیند سلا دیا۔ تاہم استاد دامن نے لاہور میں ہی قیام پذیر ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ تمام زندگی آمریت، منافقت اور کرپشن سے نفرت کرتے رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے مداحین نے ان کا شعری مجموعہ ’’دامن دے موتی‘‘ شائع کیا۔ ان کی نظموں کا آج بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ وہ پہلے ’’ہمدم‘‘ کے قلمی نام سے لکھتے رہے۔ یہ قلمی نام بعدازاں ’’دامن‘‘ ہو گیا۔ استاد کا خطاب انہیں مقامی لوگوں نے دیا۔ اس کے بعد استاد دامن سیاسی اور عوامی جلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگے۔ وہ اکثر اس رائے کا اظہار کرتے رہتے تھے کہ جدوجہدِ آزادی اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی جب تک ہندو، مسلمان اور سکھوں میں اتحاد نہیں ہو جاتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں انہوں نے ایک نظم لکھی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کے جذبات انہی کی زبان میں بیان کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عوامی شاعر کہلائے۔ اس کے علاوہ وہ رجائیت پسند تھے اور انہوں نے اپنے مداحین کو کبھی یاسیت اور قنوطیت کی دلدل میں نہیں دھکیلا۔ ذرا ان کی یہ شاعری ملاحظہ کیجیے۔ ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں پراں نال میٹن والیو اوئے موئیاں ہویا دیاں صفاں ولیٹن والیو کر لو کوٹھیاں وچ چاننا کھو کے ساڈیاں اکھیاں دا نور ایتھے انقلاب آئے گا ضرور سانوں کوئی شکست نہیں دے سکدا بھانویں کوئی کڈا دم خم نکلے استاد دامن دے گھر ویکھیا جے دو ریوالور تے تن دستی بم نکلے استاددامن نے پنجاب اور پنجابی زبان سے اپنی محبت کا اظہار بھی بڑے واضح انداز میں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں پنجابی پنجاب دے رہن والا سدا خیر پنجابی دی منگ دا ہاں موتی کسے سہاگن دی نتھ دا ہاں ٹُکڑا کسے پنجابن دی ونگ دا ہاں اس کے بعد وہ اس بات کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ وہ اردو اور انگریزی کے دشمن نہیں لیکن ان کی منہ بولی زبان پنجابی کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں اردو دا میں دوکھی ناہیں تے دشمن نہیں انگریزی دا پچھدے او میرے دل دی بولی ہاں جی ہاں، پنجابی اے بلھا ملیا ایسے وچوں ایسے وچوں وارث وی دھاراں ملیاں ایسے وچوں میری ماں پنجابی اے اب زندگی کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں زندگی کیہ اے پتن سیاپیاں دی روندے آئے ساں پٹ دے گزر چلے خون جگر دا تلی تے رکھ کے تے دھرتی پوچدے پوچدے گزر چلے ایتھے کیویں گزارئیے زندگی نوں ایہو سوچدے سوچدے گزر چلے اب ذرا مندرجہ ذیل شعروں کو دیکھیں جہاں وہ دلیل سے کہتے ہیں کہ کم عقلوں اور نادانوں کو اپنے اشعار سنانا بالکل بے سود ہے۔ کم عقلی تے تیری کوئی شک نہیں دانش جاہلاں نوں پیا وار ناں دامنؔ شعر سناؤنا ایں مورکھاں نوں موتی پتھراں تے پیا وار ناں ایں استاد دامن فطری حقائق کا بہت ادراک رکھتے تھے اور انسانی فطرت کے گوشے بھی بے نقاب کرتے تھے۔ ان کی یہ شاعری ملاحظہ کریں لا غرض اگے غرض پیش کر کے انھّے اگے مورکھا رون لگا ایں آئی جوانی گئی جوانی جیون بدلاں دی چھاں بھاویں رہی ایہہ چار دیہاڑے ناں دی پھلے ناں کسے غیر نے مینوں ماریا نہیں جنھے ماریا یار بن کے جنہوں کلی گلاب سمجھیا ساں اوہ ساہمنے آیا تلوار بن کے استاد دامن حبیب جالب کو اپنا ’’اردو ایڈیشن‘‘ کہتے تھے۔ وہ کہتے تھے وہ اردو کا عوامی شاعر ہے اور میں پنجابی کا عوامی شاعر ہوں۔ اگرچہ بعض نقاد حبیب جالب اور استاد دامن کو نعرے باز کہتے ہیں لیکن یہ ایک رائے ہے۔ ویسے تو ڈاکٹر وزیر آغا جیسے جیّد نقاد نے فیض احمد فیض کو بھی نعرے باز کہا تھا۔ ان نقادوں کے نزدیک معروضی صداقتوں اور عصری کرب کو عوام کی زبان میں بیان کرنا نعرے بازی ہے اور ایسا کلام شعری طرزاحساس سے خالی ہوتا ہے۔ بقول حسن عسکری یہ نفس کی نہیں آفاق کی شاعری ہے۔ ’’وقت کی راگنی‘‘ میں انہوں نے بڑی صراحت سے ایسی شاعری کو رد کیا ہے۔ لیکن کیا یہی حرفِ آخر ہے؟ اس پر بحث کے درواز ے کھل سکتے ہیں۔ 1984ء ایک ایسا سال تھا جب بڑی معروف ہستیاں عالمِ جاوداں کو سدھار گئیں۔ ان میں راجندر سنگھ بیدی، خواجہ خورشید انور اور فیض احمد فیض شامل ہیں۔ اسی سال کے آخر میں (تین دسمبر1984ئ) کو استاد دامن بھی یہ جہاں چھوڑ گئے… رہے نام اللہ کا۔

 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
 
Top
Forgot your password?