1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.

Main Shaam Yaadoon K Jangaloon Main Guzaarta Hon K Kuch Likhoon Ga

Discussion in 'Ghazal' started by ujalaa, Aug 13, 2018.

  1. ujalaa

    ujalaa
    Expand Collapse
    TM Star

    Joined:
    Feb 17, 2010
    Messages:
    1,276
    Likes Received:
    311
    میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا
    یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا


    بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے!
    وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا ہوں کہ کچھ لکھوںگا
    میں پچھلے موسم کی بارشوں کو پھر اپنی آنکھوں میں لا رہا ہوں!
    کہ اب کے ساون کی رُت میں‘ میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
    عجیب رُت ہے جدائیوں کی‘ عذاب دن ہیں عذاب راتیں
    میں چند مہمل سے لفظ لکھ کر یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
    میں لفظ پلکوں سے چن رہا ہوں‘ میں خواب کاغذ پہ بُن رہا ہوں
    میں تیری آہٹ بھی سن رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
    وہ سارے رستے کہ جن پہ ہم تم چلے تھے چاہت کے سنگ عاطف
    میں اب جو اُن پر کبھی گیا تو یہ جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا

     

Share This Page