Surah Fateha Ummul Quran

shehzad3

Newbie
Apr 13, 2019
9
5
3
In الرحمن الرحيم, Our Lord Almighty Told Us About His Mercy In These Words That He Is The Most Beneficent, The Most Merciful.
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,668
363
حدیث نمبر: 5006
حدثنا علي بن عبد الله،‏‏‏‏ حدثنا يحيى بن سعيد،‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ عن حفص بن عاصم،‏‏‏‏ عن أبي سعيد بن المعلى،‏‏‏‏ قال كنت أصلي فدعاني النبي صلى الله عليه وسلم فلم أجبه قلت يا رسول الله إني كنت أصلي‏.‏ قال ‏"‏ ألم يقل الله ‏ {‏ استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم‏}‏ ثم قال ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد ‏"‏‏.‏ فأخذ بيدي فلما أردنا أن نخرج قلت يا رسول الله إنك قلت لأعلمنك أعظم سورة من القرآن‏.‏ قال ‏"‏‏ {‏ الحمد لله رب العالمين‏}‏ هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته ‏"‏‏.‏

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا مجھ سے حبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لئے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے (آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر) عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آنحضر ت نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لئے لبیک کہا کرو۔“ پھر آپ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت ”الحمدللہ رب العالمین“ ہے یہی وہ سات آیا ت ہیں جو (ہر نماز میں) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ ”قرآن عظیم“ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔


حدیث نمبر: 5007
حدثني محمد بن المثنى: حدثنا وهب: حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن معبد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري قال: كنا في مسير لنا فنزلنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجاءت جارية فقالت: إن سيد الحلي سليم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن نفرنا غيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فهل منكم راق؟ فقام معها رجل ما كنا نأبنه برقية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرقاه فبرأ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأمر له بثلاثين شاة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسقانا لبنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما رجع قلنا له: أكنت تحسن رقية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أوكنت ترقي؟ قال: لا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما رقيت إلا بأم الكتاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قلنا: لا تحدثوا شيئا حتى نأتي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو نسأل النبي صلى الله عليه وسلم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال: (وما كان يدريه أنها رقية؟ اقسموا واضربوا لي بسهم). وقال أبو معمر: حدثنا عبد الوارث: حدثنا هشام: حدثنا محمد بن سيرين: حدثني معبد بن سيرين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري بهذا.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے معبد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ الفاتحہ منتر بھی ہے۔ (جاؤ یہ مال حلال ہے) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگا نا۔ اور معمر نے بیان کیا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا ہم سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ بیان کیا۔

صحیح بخاری
کتاب فضائل القرآن

@Don @saviou @Shiraz-Khan @Seemab_khan @Mahen @shehr-e-tanhayi @Hoorain
@Aaylaaaaa @minaahil @H@!der @Untamed-Heart @Sehar_Khan
@duaabatool @Armaghankhan @Layla
@Kavi @Gaggan @AnadiL @Um_mm
@Hasii @Bird-Of-Paradise @shzd @zehar
@Manahi007 @ujalaa @*Sonu* @Fantasy
@Shanzykhan @NXXXS @AnadiL @Basitkikhushi
@whiteros @namaal @Abid Mahmood @Zunaira_Gul
@Fanii @junaid_ak47 @Mas00m-DeVil
@Asheer @arzi_zeest @mashooma @intelligent086
@St0rm @Museebat @Adeeha_ @Ram33n @Elephent @ujalaa @Learn-Fast @Museebat
 

Armaghankhan

Likhy Nhi Ja Sakty Dukhi Dil K Afsaany
Super Star
Sep 13, 2012
10,212
5,556
1,113
KARACHI
حدیث نمبر: 5006
حدثنا علي بن عبد الله،‏‏‏‏ حدثنا يحيى بن سعيد،‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن،‏‏‏‏ عن حفص بن عاصم،‏‏‏‏ عن أبي سعيد بن المعلى،‏‏‏‏ قال كنت أصلي فدعاني النبي صلى الله عليه وسلم فلم أجبه قلت يا رسول الله إني كنت أصلي‏.‏ قال ‏"‏ ألم يقل الله ‏ {‏ استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم‏}‏ ثم قال ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد ‏"‏‏.‏ فأخذ بيدي فلما أردنا أن نخرج قلت يا رسول الله إنك قلت لأعلمنك أعظم سورة من القرآن‏.‏ قال ‏"‏‏ {‏ الحمد لله رب العالمين‏}‏ هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته ‏"‏‏.‏

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا مجھ سے حبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لئے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے (آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر) عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آنحضر ت نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لئے لبیک کہا کرو۔“ پھر آپ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت ”الحمدللہ رب العالمین“ ہے یہی وہ سات آیا ت ہیں جو (ہر نماز میں) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ ”قرآن عظیم“ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔


حدیث نمبر: 5007
حدثني محمد بن المثنى: حدثنا وهب: حدثنا هشام،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن معبد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري قال: كنا في مسير لنا فنزلنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجاءت جارية فقالت: إن سيد الحلي سليم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن نفرنا غيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فهل منكم راق؟ فقام معها رجل ما كنا نأبنه برقية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرقاه فبرأ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأمر له بثلاثين شاة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وسقانا لبنا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما رجع قلنا له: أكنت تحسن رقية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أوكنت ترقي؟ قال: لا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما رقيت إلا بأم الكتاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قلنا: لا تحدثوا شيئا حتى نأتي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أو نسأل النبي صلى الله عليه وسلم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال: (وما كان يدريه أنها رقية؟ اقسموا واضربوا لي بسهم). وقال أبو معمر: حدثنا عبد الوارث: حدثنا هشام: حدثنا محمد بن سيرين: حدثني معبد بن سيرين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي سعيد الخدري بهذا.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے معبد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ الفاتحہ منتر بھی ہے۔ (جاؤ یہ مال حلال ہے) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگا نا۔ اور معمر نے بیان کیا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا ہم سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ بیان کیا۔

صحیح بخاری
کتاب فضائل القرآن

@Don @saviou @Shiraz-Khan @Seemab_khan @Mahen @shehr-e-tanhayi @Hoorain
@Aaylaaaaa @minaahil @H@!der @Untamed-Heart @Sehar_Khan
@duaabatool @Armaghankhan @Layla
@Kavi @Gaggan @AnadiL @Um_mm
@Hasii @Bird-Of-Paradise @shzd @zehar
@Manahi007 @ujalaa @*Sonu* @Fantasy
@Shanzykhan @NXXXS @AnadiL @Basitkikhushi
@whiteros @namaal @Abid Mahmood @Zunaira_Gul
@Fanii @junaid_ak47 @Mas00m-DeVil
@Asheer @arzi_zeest @mashooma @intelligent086
@St0rm @Museebat @Adeeha_ @Ram33n @Elephent @ujalaa @Learn-Fast @Museebat
jazak Allah
 
  • Like
Reactions: Zunaira_Gul

shehzad3

Newbie
Apr 13, 2019
9
5
3
The Messenger of Allah said, "[The chapter commencing with] 'All praises and thanks are due to Allah the Lord of the Universe' is the Mother of the Qur'an, the Mother of the Book, the Seven Oft-Repeated Verses and the Great Qur'an." (i.e. Umm al-Qur'an, Umm al-Kitab, Sab'ul-Mathani and Al-Qur'an and that is the Surah Al Fatihah
 
  • Like
Reactions: Zunaira_Gul
Top
Forgot your password?