1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.

ساہنوں نہر والے پُل تے بُلا کے

Discussion in 'Tafreeh' started by Untamed-Heart, Mar 25, 2018.

  1. Untamed-Heart

    Untamed-Heart
    Expand Collapse
    ❤HEART❤
    UpComing Staff

    Joined:
    Sep 21, 2015
    Messages:
    23,282
    Likes Received:
    7,247
    ساہنوں نہر والے پُل تے بُلا کے
    مستنصر حسین تارڑ

    قصہ مختصر سعودی عرب میں جو نظام رائج ہے ‘ظاہر ہے اس کا بنیادی مقصد سعودی خاندان کی بادشاہت کو مستحکم کرنا ہے۔ جس کے لیے وہاں کے شیوخ اور علما کرام جابرسلطان سے پوچھ کر فتویٰ دیتے ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا جب آل سعود کے مخالفین نے خانہ کعبہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ اول اول تو انہیں ایرانی قرار دیا گیا تھا۔ لیکن پھر کُھلا کہ یہ تو گھریلو معاملہ ہے اور ماشااللہ سعودی افواج کے بس میں نہ تھا کہ وہ ان دہشت گردوں کو خانہ کعبہ سے نکال باہر کریں ۔

    اور پھر زر کثیر خرچ کر کے دنیا کے اس وقت کے بہترین کمانڈوجو فرانسیسی تھے انہیں کرائے پر حاصل کیا گیا اور یہاں ایک شرعی مسئلہ درپیش ہوگیا کہ فرانسیسی تو کافر تھے تو اس کا یہ حل نکالا گیا کہ جب وہ تشریف لائے تو کہا گیا کہ ایک مجبوری ہے آپ جو کچھ ہم عربی میں کہیں گے اسے دہرا دیں ،انہیں کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔۔انہوں نے دہرا دیا، یعنی کلمہ پڑھ لیا اور عارضی طور پر مسلمان ہوگئے۔

    ان میں سے ایک کمانڈو نے بیان دیا تھا کہ جب ہم سعودی عرب پہنچے تو عربوں نے ہمیں کچھ دوہرانے کو کہا ۔جس کا مطلب ہم نہیں جانتے تھے۔

    بہر طور مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار میمونہ کچھ عرصہ بیٹے کے ساتھ جدہ میں بسر کرکے واپس لاہور آئی تو ائیر پورٹ پر اس کی مسرت دیکھنے والی تھی ‘کہنے لگی پاکستان کی کیا بات ہے۔یہاں زندگی ہے،بچے کھیلتے نظر آتے ہیں ، خواتین اور لڑکیاں بازاروں میں چلتی پھرتی ہیں ۔۔ وہاں تو کوئی مسکراتا بھی نہیں،شکر ہے میں ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں واپس آگئی۔

    لیکن اب پچھلے دنوں ایک سانحہ ہوگیا ہے۔ ہم کافر ہوئے ہیں تو وہ مسلمان ہوگیا ہے،یا پھر ہم مسلمان ہوئے ہیں اور وہ کافر ہوگیا۔۔ یکدم یوٹرن لے لیا ہے اور ہم پریشان کھڑے ہیں ۔بقول اظہار الحق کے ہم نے اپنے ٹیلی ویژن توڑ ڈالے ،اپنی خواتین کو یہ لمبے لمبے سیاہ چوغے پہنا دیے ۔ہر اس شے کو حرام قرار دیا جس میں خوشی کے حصول کا کوئی ذرہ برابر بھی خدشہ تھا، اپنے بچوں کو سعودی امداد سے قائم ہونے والے مدرسوں میں داخل کرایا، شلواریں گھٹنوں سے اوپر کرلیں، یہاں تک کہ خدا حافظ کی بجائے اللہ حافظ کہنے لگے۔ اپنے علاوہ ہر فرقے کو کافر قرار دیا، یعنی ہمارا حال تو نور جہاں جیسا ہوگیا کہ ساہنوں نہر والے پُل تے بُلا کے تے خورے ماہی کدھر گیا۔

    ماہی کے علما کرام نے ایک اور فتوٰی دے دیا کہ پردے کے لیے عبایا پہننا ضروری نہیں ہے۔عورتیں اس پہناوے کے بغیر گھوم پھر سکتی ہیں ۔ ویلنٹائن ڈے میں کچھ حرج نہیں ۔اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے ،

    تازہ ترین تحقیق یہ ہے کہ ڈرائیونگ سے عورتوں کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت مجروح نہیں ہوتی تو وہ اس برس جون سے کاریں دوڑاتی پھریں گی۔ بلکہ خواتین بے دریغ موٹر سائیکلیں بھی چلا سکتی ہیں ۔

    اور ہماری چشم نے کیسے کیسے عبرت ناک منظر دیکھے ۔سعودی عورتیں مردوں کےساتھ فٹ بال میچ دیکھ رہی ہیں۔ اور ہاتھ ہلا ہلا کر رقص کے انداز میں نعرے لگا رہی ہیں۔

    ایک اور فتوی آگیا ۔۔عورتیں کاروبار چلاسکتی ہیں ، جدہ میں کاروں کا ایک شو روم کھل گیا جہاں سب کی سب سیلز گرلز ،اپنی سعودی ہمشیرگان ہیں ، اور وہ نہایت بے تکلفی سے مُوئے مردوں کےساتھ بے دریغ گفتگو کررہی ہیں، حالانکہ وہ نا محرم ہیں ۔

    سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شاید ریاض میں ایک میوزیکل کنسرٹ ہورہا ہے،کوئی عرب گلوکارہ لہک لہک کر اپنے لباس میں سے امڈ امڈ کر موسیقی کی تانوں پر سوار نغمہ سرا ہے اور ہال میں موجود خواتین پر وجد طاری ہوچکا ہے اور وہ جھوم برابر جھوم رہی ہیں ۔ البتہ کنسرٹ میں نامحرم مردوں کا داخلہ فی الحال منع تھا۔ آخر ہمیں اپنے مذہب سے مکمل روگردانی تو نہیں کرنی۔

    یہاں تک کہ میراتھن دوڑ بھی منعقد کی گئی ہے۔ تھیٹر اور اوپیرا گھر بھی وجود میں آرہے ہیں، جس کا میں اہل ہوں اگرچہ عمر کی ناتوانی کے باعث ایک عرصہ سے نااہل ہوں ۔

    میمونہ جدہ میں خواتین کے ملبوسات کے ایک سپر سٹور میں جاتی ہے اور میں باہر کھڑا اس کا انتظار کرتا ہوں ۔میممونہ باہر آتی ہے تو اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہورہا ہے،گال سرخ انار ہورہے تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا ؟ تو وہ کہتی ہے نہیں پوچھو! مجھے شرم آتی ہے تو میں مزید اشتیاق سے دریافت کرتا ہوں کہ میمونہ کیا ہوا۔۔۔؟ تو وہ ارد گر د دیکھ کر سرگوشی کرتی ہے کہ سٹور کے اندر یہ عربنیں ننگی پنگی گھوم رہی تھیں ۔کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔۔ میمونہ اپنے خاندانی پس پنظر کے حوالے سے ایک بنیادپرست مسلمان ہے لیکن راجپوت ہونے کے حوالے سے ایک عورت یوں بے حیائی برداشت نہیں کرسکتی۔

    اب ان دنوں سعودی عرب میں جو"انقلابی" تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، سعودی کراؤن پرنس بہت ہی لبرل ہوتے جارہے ہیں تو مجھے حیرت ہے کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس ترقی پسندی پر کچھ احتجاج نہیں ہوا۔ کم از کم شباب ملی کے ڈنڈا برداروں کو تو ویلنٹائن ڈے کو جائز قرار دینے پر کچھ تو ہلا گلا کرنا چاہیے تھا۔
    میرے دیرینہ دوست سجاد میر جن کی ادبی اور شعری شناخت کی خوبیوں کا میں قائل ہوں ۔اگرچہ تصوف کی جو گرہیں وہ کھولتے ہیں ان کا میں قائل نہیں ہوں تو کم از کم وہ تو اس روشن خیال سعودی عرب کے انقلاب کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار کریں ۔

    وہ جو کہتے ہیں نا ں کہ مرے کو مارے شاہ مدار ۔مجھے قطعی طور پر علم نہیں کہ شاہ مدار کو ن تھا اور وہ مرے کو کیوں بلاوجہ مار تا تھا۔ تو تازہ خبر آئی کہ جدہ میں ایک عظیم فیشن شو کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے کروڑوں ڈالر وقف کردیے گئے ہیں۔۔دنیا بھر سے فرانس، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ سے بھرے بدنوں ،اشتعال انگیز تناسب والی فیشن ماڈلز آئیں گی اور ماشااللہ بلیوں کی چال چلیں گی یعنی حرمین شریفین کے خادموں کی سلطنت میں کیٹ واک کریں گی ۔

    عجب سلسلے ہیں کہ سعودی کوئے یار سے نکلتے ہیں تو را ہ میں ٹھہرتے ہی نہیں ،سیدھے موئے دار جاتے ہیں ۔
    اور ہم نہر والے پُل پر حیران کھڑے ہیں ۔کافر کھڑے ہیں یا مسلمان کھڑے ہیں کچھ معلوم نہیں۔کرائے کے لوگوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ ہمارا ماہی کدھر نکل گیا۔ وہ یکدم لبرل اور روشن خیال ہوگیا اتنا کہ ہم تو نہیں ہوسکتے۔ ہم پاکستانی یقین کیجئے کہ ہمیشہ سے بہت معتدل اور متوازن رہے ہیں ۔ہم اپنے عقیدے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اور اعتدال کی راہ سے بھی رو گردانی نہیں کرتے ۔ہم کب تک نہر والے پل پر کھڑے اس ماہی کا انتظار کرتے رہیں گے جس کے عشق میں گرفتار ہوکر ہم نے اپنی ثقافت ترک کردی،تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کی اور وہ ماہی رنگ رلیاں منانے میں مشغول ہوگیا
     

Share This Page